مضامین بشیر (جلد 1) — Page 116
مضامین بشیر 117 شریعت کے کسی حکم کو چھوٹا نہ سمجھو گذشته مجلس مشاورت جو اپریل ۱۹۲۷ء میں قادیان میں منعقد ہوئی تھی۔اس میں ایک امر نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے یہ بھی پیش ہوا تھا کہ جو احمدی کہلانے والے لوگ شریعت کے ان احکام کی پابندی اختیار نہیں کرتے جو انسان کے ظاہری شعار کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مثلاً ڈاڑھی کا رکھنا غیرہ ذلک۔ان کے متعلق کیا طریق اختیار کیا جائے۔یعنی اگر وہ با وجود بار بار کی پند و نصیحت کے ڈاڑھی نہ رکھیں تو آیا ان کے متعلق کوئی سرزنش کا پہلو اختیار کرنا مناسب ہوگا یا نہیں اور اگر مناسب ہوگا تو کیا۔اس کے متعلق مجلس مشاورت نے بعض تجاویز پیش کیں جنہیں حضرت خلیفہ امسیح ایدہ اللہ بنصرہ نے منظور فرمایا اور جوانہی دنوں میں الفضل میں شائع کر دی گئی تھیں مگر ان تجاویز کے منظور فرمانے کے ساتھ ہی حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کے اس مسئلہ کے متعلق نظارت تعلیم و تربیت چاہیئے کہ مضامین وغیرہ کے ذریعہ جماعت میں یہ احساس پیدا کرے کہ وہ اپنی ظاہری صورتوں کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء مبارک کے مطابق بنائیں اور شریعت کے کسی حکم کو بھی چھوٹا سمجھ کر نہ ٹالیں بلکہ سب کی پابندی اختیار کریں تا کہ اعلیٰ درجہ کے مومنین میں ان کا شمار ہوا اور خدا کی نعمت کا کوئی دروازہ بھی ایسا نہ رہے جو ان پر بند ہو۔سو اسی غرض کو پورا کرنے کے لئے خاکسار اپنے احباب کے سامنے یہ چند سطور پیش کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ وہ میری اس عرضداشت کی طرف پوری پوری توجہ کریں گے اور اپنے نمونہ سے یہ ثابت کر دیں گے کہ اطاعت رسول کے لئے ان کے اندر ایک ایسا شوق اور ولولہ موجود ہے کہ اس علم کے ہونے بعد کہ کوئی ارشاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہے ، دنیا کی کوئی روک جسے شریعت روک نہیں قرار دیتی ان کو اس کی تعمیل سے باز نہیں رکھ سکتی۔سب سے پہلے جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔وہ ایک اصولی بات ہے اور وہ یہ کہ بیشک شریعت کے احکام میں تفاوت ہے اور کوئی عظمندان میں مدارج کے وجود کا انکار نہیں کرسکتا اور ڈاڑھی کا رکھنا یقیناً ان اصولی باتوں میں سے نہیں ہے جن پر انسان کی روحانی زندگی کا بلا واسطہ دار و مدار ہے لیکن بایں ہمہ اس میں ذرا بھر بھی شک نہیں کہ شریعت کا کوئی حکم بھی چھوٹا نہیں سمجھا