مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 114 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 114

مضامین بشیر ۱۱۴ قائم ہو گیا ہے۔اور جس کی وجہ سے فی زمانہ بغیر سودی لین دین میں پڑنے کے تجارت نہیں کی جا سکتی۔وہ ایک حالات کی مجبوری سمجھی جاوے گی جس کے ماتحت سود کا لینا دینا مذکورہ بالا شرائط کے مطابق جائز ہوگا۔کیونکہ حضرت صاحب نے سیٹھی صاحب کی مجبوری کو جو ایک تاجر تھے اور اسی قسم کے حالات اُن کو پیش آتے تھے ، اس فتوے کے اغراض کے لئے ایک صحیح مجبوری قرار دیا ہے۔گویا حضرت صاحب کا منشاء یہ ہے کہ کوئی شخص سود کے لین دین کو غرض رعایت بنا کر کا روبار نہ کرے لیکن اگر عام تجارت وغیرہ میں گردو پیش کے حالات کے ماتحت سودی لین دین پیش آجاوے۔تو اس میں مضائقہ نہیں اور اسی صورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فتویٰ دیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ سود میں ملوث ہونے کے اندیشہ سے مسلمان تجارت چھوڑ دیں۔یا اپنے کاروبار کو معمولی دوکانوں تک محدود رکھیں۔جن میں سود کی دقت بالعموم پیش نہیں آتی۔اور اس طرح مخالف اقوام کے مقابلہ میں اپنے اقتصادیات کو تباہ کر لیں۔نمبر (۹) اس فتویٰ کے ماتحت اس زمانہ میں مسلمانوں کوسود کے لئے بنک بھی جاری کئے جا سکتے ہیں۔جن میں اگر مجبوری کی وجہ سے سودی لین دین کرنا پڑے۔تو بشر طیکہ مذکورہ بالا حرج نہیں۔نمبر (۱۰) جو شخص اس فتوے کے ماتحت سودی روپیہ حاصل کرتا ہے۔اور پھر اسے دین کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ اس خرچ کی وجہ سے بھی عند اللہ ثواب کا مستحق ہوگا۔نمبر (۱۱) ایک اصولی بات اس خط میں موجودہ زمانہ میں بے پردہ عورتوں سے ملنے جلنے کے متعلق بھی پائی جاتی ہے۔اور وہ یہ کہ اس زمانہ میں جو بے پردہ عورتیں کثرت کے ساتھ باہر پھرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور جن سے نظر کو مطلقاً بچانا قریباً قریباً محال ہے۔اور بعض صورتوں میں بے پردہ عورتوں کے ساتھ انسان کو ملاقات بھی کرنی پڑ جاتی ہے۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ارشا د فر مایا ہے کہ ایسی غیر محرم عورتوں کے سامنے آتے ہوئے انسان کو یہ احتیاط کر لینی کافی ہے کہ آنکھیں کھول کر نظر نہ ڈالے اور اپنی آنکھوں کو خوابیدہ رکھے یہ نہیں کہ ان کے سامنے بالکل نہ آئے کیونکہ بعض صورتوں میں یہ بھی ایک حالات کی مجبوری ہے ہاں آدمی کو چاہیئے کہ خدا سے دُعا کرتا رہے کہ وہ اُسے ہر قسم کے فتنہ سے محفوظ رکھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے بچپن میں دیکھا تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر میں کسی عورت کے ساتھ بات کرنے لگتے جو غیر محرم ہوتی اور وہ آپ سے پردہ نہیں کرتی تھی تو آپ کی آنکھیں قریباً