مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 113 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 113

۱۱۳ ئود کے اشاعت دین میں خرچ کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی انسان عمداً اپنے تئیں اس کام میں ڈالے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری سے جیسا کہ آپ کو پیش ہے۔یا کسی اتفاق سے کوئی شخص سُود کے روپیہ کا وارث ہو جائے تو وہ روپیہ اس طرح پر جیسا کہ میں نے بیان ( کیا ہے ) خرچ ہوسکتا ہے اور اس کے ساتھ ثواب کا بھی مستحق ہوگا۔غ۔“ مضامین بشیر خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس خط سے مندرجہ ذیل اصولی باتیں پتہ لگتی ہیں : نمبر (۱) سودی آمد کا روپیہ سود کی ادائیگی پر خرچ کیا جا سکتا ہے بلکہ اگر حالات کی مجبوری پیدا ہو جائے اور سود دینا پڑ جاوے تو اس کے واسطہ یہی انتظام احسن ہے کہ سودی آمد کا روپیہ سود کی ادائیگی میں خرچ کیا جاوے۔مسلمان تاجر جو آج کل گردو پیش کے حالات کی مجبوری کی وجہ سے سود سے بچ نہ سکتے ہوں وہ ایسا انتظام کر سکتے ہیں۔نمبر (۲) سود کی آمد کا روپیہ باقی روپیہ سے الگ حساب رکھ کر جمع کرنا چاہیئے تا کہ دوسرے روپے کے حساب کے ساتھ مخلوط نہ ہوا اور اُس کا مصرف الگ ممتاز رکھا جاسکے۔نمبر (۳) سُود کا روپیہ کسی صورت میں بھی ذاتی مصارف میں خرچ نہیں کیا جاسکتا اور نہ کسی دوسرے کو اس نیت سے دیا جا سکتا ہے کہ وہ اُسے اپنے ذاتی مصارف میں خرچ کر ہے۔نمبر (۴) سودی آمد کا روپیہ ایسے دینی کام میں خرچ ہوسکتا ہے۔جن میں کسی شخص کا ذاتی خرچ شامل نہ ہو مثلا طبع واشاعت لٹریچر مصارف ڈاک وغیرہ ذالک۔نمبر ( ۵ ) دین کی راہ میں ایسے اموال خرچ کئے جا سکتے ہیں جس کا استعمال گوافراد کے لئے ممنوع ہو لیکن وہ دوسروں کی رضا مندی کے خلاف نہ حاصل کئے گئے ہوں۔یعنی ان کے حصول میں کوئی رنگ جبر اور دھو کے کا نہ ہو۔جیسا کہ مثلاً چوری یا ڈا کہ یا خیانت وغیرہ میں ہوتا ہے۔نمبر (۶) اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ نازک حالت اس فتوے کی موید ہے۔نمبر (۷) لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ کوئی شخص اپنے آپ عمد أسُود کے لین دین میں ڈالے بلکہ مذکورہ بالا فتویٰ صرف اس صورت میں ہے کہ کوئی حالات کی مجبوری پیش آ جائے یا کسی اتفاق کے نتیجہ میں کوئی شخص سودی روپیہ کا وارث بن جاوے۔نمبر (۸) موجودہ زمانہ میں تجارت وغیرہ کے معاملات میں جو طریق سود کے لین دین کا