مضامین بشیر (جلد 1) — Page 112
مضامین بشیر ۱۱۲ خرچ نہ ہو بلکہ صرف اس سے اشاعتِ دین ہو۔میں اس سے پہلے یہ فتویٰ اپنی جماعت کے لئے بھی دے چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو سود حرام فرمایا ہے، وہ انسان کی ذاتیات کے لئے ہے۔حرام یہ طریق ہے کہ کوئی انسان سُود کے روپیہ سے اپنی اور اپنے عیال کی معیشت چلا دے یا خوراک یا پوشاک یا عمارت میں خرچ کرے یا ایسا ہی کسی دوسرے کو اس نیت سے دے کہ وہ اس میں سے کھاوے یا پہنے۔لیکن اس طرح پر کسی سود کے روپیہ کا خرچ کرنا ہر گز حرام نہیں ہے کہ وہ بغیر اپنے کسی ذرہ ذاتی نفع کے خدا تعالیٰ کی طرف رد کیا جاوے۔یعنی اشاعت دین پر خرچ کیا جاوے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا مالک ہے ، جو چیز اُس کی طرف آتی ہے وہ پاک ہو جاتی ہے۔بجز اس کے کہ ایسے مال نہ ہوں کہ انسانوں کی مرضی کے بغیر لئے گئے ہوں۔جیسے چوری یار ہرنی یا ڈاکہ، کہ یہ مال کسی طرح سے بھی خدا کے اور دین کے کاموں میں بھی خرچ کرنے کے لائق نہیں لیکن جو مال رضا مندی سے حاصل کیا گیا ہو، وہ خدا تعالیٰ کے دین کی راہ میں خرچ ہوسکتا ہے۔دیکھنا چاہیئے کہ ہم لوگوں کو اس وقت مخالفوں کے مقابل پر جو ہمارے دین کے رد میں شائع کرتے ہیں کس قدر روپے کی ضرورت ہے۔گویا یہ ایک جنگ ہے جو ہم اُن سے کر رہے ہیں۔اس صورت میں اس جنگ کی امداد کے لئے ایسے مال اگر خرچ کئے جاویں تو کچھ مضائقہ نہیں۔یہ فتویٰ ہے جو میں نے دیا ہے اور بیگانہ عورتوں سے بچنے کے لئے آنکھوں کو خوابیدہ رکھنا اور کھول کر نظر نہ ڈالنا کافی ہے۔اور پھر خدا تعالیٰ سے دُعا کرتے رہیں۔یہ تو شکر کی بات ہے کہ دینی سلسلہ کی تائید میں آپ ہمیشہ اپنے مال سے مدد دیتے رہتے ہیں۔اس ضرورت کے وقت یہ ایک ایسا کام ہے کہ میرے خیال میں خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے لئے نہایت اقرب طریق ہے۔سو شکر کرنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دے رکھی ہے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ ہمیشہ آپ اس راہ میں سرگرم ہیں۔ان عملوں کو اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے وہ جزا دے گا۔ہاں ماسوا اس کے دُعا اور استغفار میں بھی مشغول رہنا چاہیئے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار: مرزا غلام احمد از قادیان ۲۴ اپریل ۱۸۹۸ء