مضامین بشیر (جلد 1) — Page 99
۹۹ مضامین بشیر و عادات پردہ کے پیچھے مستور رہتی ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں روز مرہ کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات جنہیں بسا اوقات ایک ناواقف آدمی قابل ذکر بھی نہیں سمجھتا وہی اس قابل ہوتے ہیں کہ ان سے اخلاق و عادات کے متعلق استدلال کیا جاوے کیونکہ ان میں انسان کے اخلاق و عادات کی تصویر ہر قسم کے تصنع و تکلف کے لباس سے عریاں ہو کر اپنی جنگی صورت میں سامنے آجاتی ہے۔مثال کے طور پر دیکھ لیجئے کہ اگر ایک باقاعدہ جلسہ ہو اور اس میں اپنے اور بیگانے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں تو اس کے اندر ایک لغوا اور بیہودہ شخص بھی حتی الوسع سنبھل کر بیٹھے گا اور اپنی ہر حرکت وسکون میں خاص احتیاط سے کام لے گا تا کہ اس کے متعلق لوگ کوئی بری رائے نہ قائم کریں لیکن وہی شخص جب اپنے گھر میں ہوگا اور اپنے واقفوں اور ملنے والوں میں بیٹھے گا تو پھر تمام تکلفات سے جدا ہو کر اس کے اخلاق و عادات کی ننگی تصویر ظاہر ہونے لگے گی۔پس اخلاق و عادات کے استدلال کے لئے روزمرہ کی نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں کو چنا چاہیئے نہ کہ خاص خاص موقعوں کی اہم باتوں کو۔اسی لئے جولوگ فن سیرۃ میں ماہر گذرے ہیں انہوں نے ایسی ایسی چھوٹی اور بظاہر نا قابل ذکر باتوں کو لیا ہے کہ نا واقف آدمی کو حیرت ہوتی ہے مگر دانا جانتا ہے کہ یہی صحیح رستہ ہے۔اب اس اصل کے ماتحت دیکھا جائے تو کوئی عقل مند میری اس روایت کو لاتعلق یا نا قابل ذکر نہیں کہہ سکتا۔میری روایت کیا ہے؟ یہی نا کہ چند احباب اپنی روزمرہ کی ملاقات کے لئے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔اور حضرت چونکہ کسی وجہ سے باہر تشریف نہیں لا سکتے ان کو اپنے پاس گھر کے اندر ہی بلا لیتے ہیں۔اور پھر کچھ خربوزے ان کے سامنے کھانے کے لئے رکھتے ہیں۔بلکہ دوستانہ بے تکلفی کے طریق پر ایک ایک کے ہاتھ میں الگ الگ خربوزہ دیتے ہیں۔اور دیتے ہوئے مسکرا کر کچھ ریمارک بھی فرماتے جاتے ہیں۔اب ڈاکٹر صاحب خدا کا خوف رکھتے ہوئے دیانت داری کے ساتھ بتائیں کہ کیا یہ ایک لاتعلق روایت ہے؟ کیا اس روایت سے حضرت صاحب کی مجلس کا طریق اور آپ کا اپنے خدام کے ساتھ مل کر بیٹھنے اور ان سے محبت و بے تکلفی کی باتیں کرنے کا طریق ظاہر نہیں ہوتا ؟ کیا اس روایت سے آپ کے اخلاق و عادات کی سادگی اور بے تکلفی پر کوئی روشنی نہیں پڑتی ؟ ان سوالات کے جواب کے لیئے مجھے کسی ثالث کی ضرورت نہیں۔ڈاکٹر صاحب موصوف کا اپنا نو رضمیر اگر وہ بجھ کر مٹ نہیں چکا اس ثالثی کے لئے کافی ہے۔بس اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔ع اگر در خانه کس است حرفی بس است باقی رہا محبت کا میدان سو اس کے متعلق کیا عرض کروں اور پھر کروں بھی تو کس سے کروں ؟ میں