مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 98 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 98

مضامین بشیر ۹۸ مطلب صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آرام طلبی و تعیش کے نتیجے میں جو شخص موٹا ہو گیا ہو وہ عموماً ضرور ناقص الایمان ہوتا ہے۔اب میرے اس نوٹ کے باوجود ڈاکٹر صاحب کو فوراً خواجہ صاحب کے ایمان کی فکر پڑ جانا خواہ نخواہ چور کی داڑھی میں تنکا والی مثال یاد دلاتا ہے۔ناظرین غور فرمائیں کہ بقول ڈاکٹر صاحب یہ خاکسار جامع الروایات ایک حد تک موٹا اور مولوی شیر علی صاحب راوی بھی موٹے لیکن ہم دونوں کو اس روایت کے بیان کرتے اور نقل کرتے ہوئے کوئی فکر دامنگیر نہیں ہوتا کہ لوگ ہمارے ایمانوں کے متعلق کیا کہیں گے۔کیونکہ ہمیں تسلی ہے کہ ہم خدا کے فضل سے مومن ہیں۔اور یہ کہ حضرت صاحب کے اس قول میں ہرگز کوئی عمومیت مقصود نہیں۔لیکن ڈاکٹر صاحب کا اس روایت کے پڑھتے ہی ماتھا ٹھنک جاتا ہے اور خواجہ صاحب کے ایمان کی فکر دامنگیر ہونے لگتی ہے۔بہر حال خواہ ڈاکٹر صاحب خواجہ صاحب کے ایمان کے متعلق کچھ ہی فتوی لگا ئیں مجھے اس روایت کے بیان کرتے ہوئے خواجہ صاحب کے ایمان پر زد کرنا مقصود نہ تھا۔اور ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت سراسر بدظنی سے کام لے کر میری نیت پر ایک نا جائز حملہ کیا ہے۔اس اعتراض کے ضمن میں ڈاکٹر صاحب نے یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ اگر خواجہ صاحب پر ز د کرنا مقصود نہیں تو پھر اس روایت کے بیان کرنے سے مطلب کیا تھا۔اور کیوں ایسی لاتعلق بات داخل کر کے ناظرین کے وقت کو ضائع کیا گیا ہے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ہرگز لا تعلق نہیں اور ڈاکٹر صاحب چونکہ محبت کے کوچے سے نا آشناء اور سیرت کے اصول سے نابلد ہیں اس لئے ان کے دل میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے۔میں نے جہاں اپنے مضمون کے شروع میں ڈاکٹر صاحب کے اصولی اعتراضات کا جواب دیا تھا وہاں یہ بتایا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو سیرۃ کے مفہوم کے متعلق سخت دھوکا لگا ہے اور انہوں نے صرف یہ سمجھ رکھا ہے کہ سیرۃ سے مراد یا تو زندگی کے بڑے بڑے واقعات ہیں اور یا ایسی خاص باتیں ہیں کہ جن سے اہم اخلاق و عادات کے متعلق بلا واسطہ روشنی پڑتی ہو۔حالانکہ یہ درست نہیں اور سیرت کے مفہوم کو ایک بہت بڑی وسعت حاصل ہے جس میں علاوہ زندگی کے تمام قابل ذکر واقعات کے روزمرہ کی ایسی ایسی باتیں جن سے اخلاق و عادات کے متعلق کسی نہ کسی طرح استدلال ہو سکتا ہو۔اور صاحب سیرت کے اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے سونے جاگنے چلنے پھرنے کام کاج کرنے دوستوں سے ملنے والدین اور بیوی بچوں اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات رکھنے دشمنوں کے ساتھ معاملہ کرنے وغیرہ کے متعلق ہر قسم کی باتیں شامل ہیں۔بلکہ فلسفہ اخلاق کے ماہرین جانتے ہیں کہ اخلاق و عادات کے متعلق استدلال کرنے کے لئے زیادہ اہم واقعات کو چننا غلطی سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایسے موقعوں پر انسان عموماً تکلف و تصنع سے کام لیتا ہے اور اس کی اصل طبیعت