مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 94 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 94

مضامین بشیر ۹۴ تو اپنی ذمہ داری پر ان کے مشورہ کو رڈ کر دیں۔تمنیات میں بھی دوست دوست بھائی بھائی باپ بیٹے خاوند بیوی وغیرہ کے باہم مشورہ ہوتے رہتے ہیں۔لیکن مشورہ لینے والا کبھی اس بات کا پابند نہیں سمجھا جاتا کہ وہ بہر صورت مشورہ کو قبول کرے۔بلکہ مشورہ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مختلف دماغوں کے غور وفکر کے نتیجہ میں بات کے تمام پہلو واضح ہو جائیں۔اور کسی امر کے حصول کے لئے جو مختلف تجاویز اختیار کی جاسکتی ہوں وہ سب سامنے آکر اس بات کے فیصلہ کا موقع ملے کہ ان میں سے کونسی تجویز اختیار کئے جانے کے قابل ہے۔ایک اکیلا آدمی جب کسی بات کے متعلق سوچتا ہے تو خواہ وہ کتنا ہی لائق اور قابل ہو بعض اوقات بات کا کوئی نہ کوئی پہلو اس کی نظر سے مخفی رہ جاتا ہے لیکن جب وہ دوسرے لوگوں کو مشورہ میں شریک کرتا ہے تو خواہ وہ لوگ اس سے لیاقت میں کم ہی کیوں نہ ہوں باہم مشورہ سے بات کے کئی مخفی پہلو سامنے آجاتے ہیں اور کئی باتیں جو اس کے ذہن میں نہیں آئی ہوتیں دوسروں کے ذہن میں آجاتی ہیں۔اور اس طرح مشورہ لینے والے کو مختلف تجویزوں اور مختلف پہلوؤں کے درمیان ٹھنڈے دل سے موازنہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔پس مشورہ اس غرض کے لئے نہیں ہوتا کہ مشورہ لینے والا دوسروں کے ہاتھ میں اپنے معاملہ کو دے دیتا ہے کہ اب جس طرح کہو اسی طرح میں عمل کروں۔بلکہ مشورہ اس لئے ہوتا ہے تا کہ مختلف دماغوں کے کام میں لگنے سے معاملہ زیر غور کے متعلق حسن و فتح کے مختلف پہلو سامنے آجائیں اور پھر مشورہ لینے والا آسانی کے ساتھ موازنہ کر کے کسی ایک رائے پر قائم ہو سکے۔مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض کی طرف قدم بڑھا دیا ہے میری روایت کو کھول کر دیکھا جائے۔اس میں صاف طور پر یہ مذکور ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت والدہ صاحبہ سے یہ دریافت کیا تھا کہ تمہارا اس معاملہ میں کیا خیال ہے اور بس۔اب اس سے ڈاکٹر صاحب کا یہ نتیجہ نکالنا کہ اس روایت سے پتہ لگتا ہے کہ آپ نے گویا خلافت کا سارا معاملہ بیوی کے ہاتھ میں دے دیا صاف یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک مشورہ لینے کے یہ معنی ہیں کہ مشورہ لینے والا مشورہ کا پابند ہو جاتا ہے والا اگر ان کا ایسا خیال نہ ہوتا تو وہ محض مشورہ طلب کرنے کا ذکر پڑھنے پر یہ واویلا نہ شروع کر دیتے کہ دیکھو بیوی کے ہاتھ میں خلافت کا معاملہ دے دیا گیا ہے۔خوب غور کر لو کہ محض مشورہ مانگنے کا ذکر پڑھنے پر ڈاکٹر صاحب کا یہ آہ و پکار کرنا کہ : - اتنے بڑے عظیم الشان انسان مامور من اللہ کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ اپنی وفات کے بعد جماعت کی ساری ذمہ داری کو اپنی بیوی کے اشارہ پر بلا سوچے سمجھے