مضامین بشیر (جلد 1) — Page 3
مضامین بشیر جس پر وہ ناراض ہوتا ہے ان کے لئے اُس نے جہنم کا عذاب رکھا ہے۔یہ ہے وہ جواب جو جَادِلُهُمُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے ماتحت آئے گا۔حق بھی ظاہر ہو گیا اور اس کے بیان میں نرمی بھی آگئی۔وہ کلمات جو اپنے اندر صرف نرمی ہی نرمی رکھتے ہیں ، اور حق سے دور ہوتے ہیں۔بلا ریب سننے والے کو ضرور خوش کر دیں گے اور وہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ الَّا الْإِحْسَانُ کے کے ماتحت غالباً ہماری ہاں میں ہاں بھی ملا دے گا لیکن کیا اس سے ہمارا مطلب حل ہو گیا ؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ ہم نے تو اس کے اور حق کے درمیان ہمیشہ کے لئے روک قائم کر دی۔یقین رکھو کہ ایسا شخص ہمارے قریب نہیں آیا بلکہ ہم سے دور چلا گیا۔جب کبھی ہم اس کے خلاف مطلب کوئی بات کہیں گے وہ الگ ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود مخالفت سے بالکل نہ گھبراتے تھے بلکہ جب کبھی سنتے کہ فلانی جگہ مخالفوں کا بڑا زور ہے تو بہت خوش ہوتے کہ اب وہاں احمدیت بھی ترقی کرے گی۔تجربہ نے بھی یہ ہی ثابت کیا ہے کہ جہاں کہیں زیادہ مخالفت ہوئی وہیں زیادہ ترقی ہوئی۔اور کیوں نہ ہوتی خدا کے مرسلوں کی بات پوری ہو کر رہا کرتی ہے۔سو چاہیئے کہ ہم جو مسیح کی غلامی کا دعویٰ رکھتے ہیں ، ان کے نقش قدم پر چلیں اور اگر ہم ان کے منشاء کو پورا نہیں کر رہے تو ہم احمدی کہلانے کے حقدار نہیں جیسے کہ آج کل کے برائے نام مسلمانوں پر مسلمان کا لفظ بولتے ہوئے طبیعت ہچکچاتی ہے۔غرضیکہ حق ایک ایسی چیز ہے جو کسی وقت بھی چھوڑنی نہیں چاہیئے۔وہ پالیسی جس میں حق کو چھپانا پڑے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ اور بات ہے کہ دنیا کی واہ واہ کو ، کامیابی کو حاصل کر لیا جاوے مگر یا درکھو صرف ہاں میں ہاں ملانے والے کبھی جماعت کے اندر داخل نہیں ہو سکتے اور ہوں بھی کیسے۔منافق کو حق سے کیا نسبت ہے اس کو اگلا جہاں یاد ہی نہیں۔مثلاً ایک عیسائی ہم سے کہے کہ میں نبی کریم کو مانتا ہوں مگر ان کو مسیح پر فضیلت نہیں تو کیا اس کا جواب یہ چاہیئے کہ ہاں لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِه ۵ قرآن شریف میں بھی آیا ہے؟ کمبخت عیسائی تو خوش ہو گیا مگر ساتھ ہی حق کا بھی خون ہو گیا اس کا جواب تو یہ تھا کہ ہم کیوں نہ نبی کریم " کو مسیح پر فضیلت دیں عَلَيْهِمَا السَّلامُ ؟ غلام کو آقا سے کیا نسبت؟ مریم کے صاحبزادے کا عرب کے سردار سے کیا مقابلہ؟ محمد مصطفى ( فِدَاهُ أَبِى وَاُمّى ) کے کام کو دیکھوا اور پھر شام کے نبی کی کاروائی۔سورج اور چاند کی بھی کچھ نسبت ہوتی ہے۔مگر یہاں تو زمین آسمان کا فرق ہے۔یہ جواب تھا جو نصرانی کو ہوش میں لاتا اور اس کو اپنی عقبی کی فکر پڑتی۔حضرت صاحب نے بیشک ہندوؤں کو صلح کا پیغام دیا۔غور کرنے والوں کے لئے اس میں بھی ایک نکتہ ہے کہ پیغام کے مخاطب ہندو تھے لیکن یہ بھی تو دیکھنا چاہیئے کہ کن شرائط پر۔سب سے بڑی شرط جو پیش کی گئی وہ یہ تھی کہ تم