مضامین بشیر (جلد 1) — Page 586
مضامین بشیر ۵۸۶ اندیشہ تھا کہ ان کے رشتہ حیات ٹوٹنے میں نہ معلوم کیسے کیسے کرب اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو۔مگر خدا کے فضل خاص نے ان پر اس وقت غیر معمولی سکینت نازل فرمائی۔اور ان کے آخری سفر کو ان کے لئے ایسا آسان کر دیا کہ جیسے ایک نازک پھول کو ایک نرم ہاتھوں والا شخص ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیتا ہے۔ایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشد خدائے بخشنده جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں مرحومہ کو قریباً آخری وقت تک ہوش رہی۔سوائے آخری چند منٹ کے جبکہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہوش میں نہیں تھیں مگر ان آخری چند منٹوں میں بھی ان کی حالت میں کوئی تغیر نہیں آیا۔وہی سبک رفتار کشتی تھی اور وہی سطح جھیل کی ہلکی ہلکی لہریں۔حتی کہ کنارے کے ساتھ لگنے کا آخری جھٹکا بھی محسوس نہیں ہوا۔گویا خدا کی رحمت کے فرشتوں نے اسے کنارے پر لگنے سے پہلے ہی اپنے ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔جب بالکل آخری سانس تھے تو میں نے ڈاکٹروں کا اشارہ پا کر حضرت صاحب کو جو اس وقت برآمدہ میں ٹہلتے ہوئے دعائیں کر رہے تھے کمرہ کا دروازہ کھولتے ہوئے اشارہ سے اندر تشریف لانے کو کہا اور پھر ہم سب باہر آ گئے اور اس طرح صرف حضور کے ہاتھوں میں اور حضور ہی کی آنکھوں کے سامنے حضور کی یہ تئیس سالہ رفیقہ حیات جس نے اپنے خاوند کو انتہائی محبت دی اور اس سے اس کی انتہائی محبت کو پایا اور اپنے خدا کے حضور پہنچ گئی۔اچھی زندگی اور اچھی موت موت فوت تو ہر انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔اور جلد یا بدیر ہر فرد بشر کو الہی قدیر کے اس اٹل دروازے سے گزرنا پڑتا ہے۔مگر مبارک ہے وہ انسان جسے اچھی زندگی کے ساتھ اچھی موت بھی نصیب ہو۔اور الحمد لله ثم الحمد لله کہ ہماری مرحومہ بہن نے خدا کی ان دونوں نعمتوں سے پورا پورا حصہ پایا۔زندگی تو یوں گزری کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی منتخب کردہ بہو اور بہو بھی دہری بہو۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مصلح موعود کی چہیتی بیوی جس نے اپنے خاوند کے گھر میں ربع صدی تک محبت کا راج کیا۔پھر الہی جماعت کے نصف حصہ یعنی احمدی خواتین کی محبوب لیڈر اور جماعتی خدمات میں سب کے لئے اعلیٰ نمونہ۔بھلا ایسی زندگی کسے نصیب ہوتی ہے؟ اور موت آئی تو کیسی ؟ پیٹ کی بیماری جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد