مضامین بشیر (جلد 1) — Page 48
مضامین بشیر ۴۸ امداد کرنا اس کی سنت میں داخل ہے مگر میں اب بھی ڈاکٹر صاحب کے لئے خدا سے دعا ہی کرتا ہوں کہ ان کی آنکھیں کھولے اور حق و صداقت کے رستے پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ان کی غلطیاں ان کو معاف ہوں اور میری لغزشیں مجھے معاف۔یہ نیت کا معاملہ ہے۔میں حیران ہوں کہ کیا کہوں اور کیا نہ کہوں۔ہاں اس وقت ایک حدیث مجھے یاد آ رہی ہے وہ عرض کرتا ہوں۔ایک جنگ میں اسامہ بن زیڈ اور ایک کافر کا سامنا ہوا۔کا فراچھا شمشیر زن تھا خوب لڑتا رہا لیکن آخر اسامہ کو بھی ایک موقع خدا نے عطا فرمایا اور انہوں نے تلوار تول کر کافر پر وار کیا۔کا فرنے اپنے آپ کو خطرہ میں پا کر جھٹ سامنے سے یہ کہہ دیا کہ مسلمان ہوتا ہوں۔مگر اسامہ نے پرواہ نہ کی اور اسے تلوار سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔بعد میں کسی نے اس واقعہ کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کر دی آپ حضرت اسامہ پر سخت ناراض ہوئے اور غصہ سے آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔آپ نے فرمایا۔اے اسامہ! کیا تم نے اسے اس کے اظہار اسلام کے بعد ماردیا ؟ اور آپ نے تین مرتبہ یہی الفاظ دہرائے۔اسامہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ شخص دکھاوے کے طور پر ایسا کہتا تھا تا کہ بچ جاوے آپ نے جوش سے فرمایا : - أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعَلَمُ مِنْ أَجُلٍ ذَالِكَ قَالَهَا أَمْ لَا یعنی تو نے پھر اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ وہ ٹھیک کہتا تھا کہ نہیں حضرت اسامہ کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ایسی ناراضگی میں فرمائے کہ تَمَيَّنُتُ أَنِّي لَمْ أَكُنُ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَالِكَ الْيَوْمِ " میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں اس سے قبل مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا اور صرف آج اسلام قبول کرتا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ناراضگی میرے حصہ میں نہ آتی۔میں بھی جو رسول پاک کی خاک پا ہونا اپنے لئے سب فخروں سے بڑھ کر فخر سمجھتا ہوں آپ کی اتباع میں ڈاکٹر صاحب سے یہی عرض کرتا ہوں کہ میرے خلاف یہ خطرناک الزام لگانے سے قبل آپ نے میرا دل تو چیر کر دیکھ لیا ہوتا کہ اس کے اندر کیا ہے۔بس اس سے زیادہ کیا جواب دوں۔ڈاکٹر صاحب کوئی مثال پیش فرماتے تو اس کے متعلق کچھ عرض کرتا لیکن جو بات بغیر مثال دینے کے یونہی کہہ دی گئی ہو اس کا کیا جواب دیا جائے۔میرا خدا گواہ ہے کہ میں نے سیرۃ المہدی کی کوئی روایت کسی ذاتی غرض کے ماتحت نہیں لکھی اور نہ کوئی روایت اس نیت سے تلاش کر کے درج کی ہے کہ اس سے غیر مبایعین پر زد پڑے بلکہ جو کچھ بھی مجھ تک پہنچا ہے اسے بعد مناسب تحقیق کے درج کر دیا ہے۔ولعنت الله علیٰ من کذب۔بایں ہمہ اگر میری یہ کتاب ڈاکٹر صاحب اور ان کے ہم رتبہ متقین کے اوقات گرامی کے