مضامین بشیر (جلد 1) — Page 527
۵۲۷ مضامین بشیر اپنے علم وعرفان کی وجہ سے وہ فضیلت حاصل ہے جو کئی بڑی عمر کے صحابہ کو بھی حاصل نہیں اور ان کے دل کی کھٹک دُور ہو گئی۔پس مندرجہ بالا مضمون کے ساتھ ساتھ میرے دل میں ایک نشتر کی طرح یہ بات بھی کھٹکی کہ جہاں چار جمعہ کے دنوں کا غیر معمولی اجتماع جس کی طرف حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے توجہ دلائی ہے۔ہمارے لئے ایک نئے ترقی کے دور کی خبر لا رہا ہے۔وہاں وہ ہمیں اس طرف بھی توجہ دلا رہا ہے کہ ہمیں ان ایام میں اپنے امام طال اللہ بقاءہ کی درازی عمر کے لئے بھی خاص طور پر دُعائیں کرنی چاہئیں۔یہ خدا تعالیٰ کا عجیب قانون ہے اور وہی اپنے مصالح کو بہتر سمجھتا ہے کہ بسا اوقات وہ جن لوگوں کے ہاتھ سے قربانی کرواتا ہے انہیں قربانی کے نتیجہ میں آنے والے انعام سے پہلے اٹھا لیتا ہے۔یہ منظر بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ ایک شخص نے بڑی محنت کر کے اور پسینہ بہا کر کھیت تیار کیا اور اس کے اندر بیج ڈالا اور اس کی حفاظت کی مگر جب کھیت پکنے کا وقت آیا تو اس سے پہلے ہی وہ گزر گیا اور فصل اٹھانے کے لئے دوسرے لوگ آ موجود ہوئے۔شاید یہ اس لئے ہے کہ خدائے حکیم کی ازلی مشیت نے یہی پسند کر رکھا ہے کہ عام حالات میں قربانی کرنے والوں کو اس دنیا میں قربانی کی تلخ مٹھاس کے سوا اور کوئی اجر نہ دے اور ان کے باقی اجروں کو اگلی دنیا کے واسطے اٹھا رکھے ہیں میں نے تلخ مٹھاس کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ اکثر صورتوں میں اہل دل اور اہل کمال کے لئے قربانی کی تلخی میں وہ شیرینی مخفی ہوتی ہے جسے ہزار انعاموں کی مٹھاس بھی نہیں پہونچ سکتی مگر ہمارا خدا اپنے امر پر بھی غالب ہے۔وہ اگر چاہے تو ایک شخص کے لئے قربانی اور انعام دونوں کی شیرینی کو ایک جگہ جمع کر سکتا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ جب یہ دونوں انعام اکٹھے ہو جاتے ہیں تو پھر خدائی نعمت کی بہارا اپنے جو بن پر نظر آتی ہے۔پس آؤ ہم دعا کریں کہ خدا ہمارے امام کی پیشانی کو ان دونوں سہروں سے مزین فرمائے۔اس نے انتہائی قربانی کا زمانہ پایا اور اپنی روحانی توجہ سے اس قربانی کی تلخی کو جماعت کے لئے تمام مٹھائیوں سے بڑھ کر میٹھا بنا دیا۔اب اگر خدائی رحمت ہمارے لئے نصرت و فتح کا زمانہ قریب لا رہی ہے تو اے ہمارے قادر و مالک خدا تو ایسا تصرف فرما کہ جس ہاتھ سے جماعت نے تنگی اور عسرت کی قاشوں کو شیرینی میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے اسی ہاتھ سے اسے ترقی و فراخی کا جام پینا بھی نصیب ہو اور تو ہمارے لئے جو تیرے نہایت ہی کمزور بندے ہیں مگر بہر حال تیرے دین کے آخری علمبردار ہیں یہ مقدر کر دے اور اس تقدیر کو اپنی