مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 399 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 399

۳۹۹ حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ دوہری ذمہ واری کے متعلق دُعاؤں کی خاص ضرورت مضامین بشیر حضرت امیر المومنین خلیفۃالمسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی وصیت پر جماعت نے جس رنگ میں صدقہ و خیرات اور دُعاؤں کی طرف توجہ دی ہے وہ ایک بہت قابلِ تعریف اور قابلِ قدرنمونہ ہے جس کی مثال صرف خدائی سلسلوں میں ہی نظر آتی ہے۔کیونکہ اس سے جماعت کے اس اخلاص کا اندازہ ہوتا ہے ، جو اسے اسلام اور احمدیت کی ترقی اور بہبودی کی خاطر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے۔مگر پھر بھی میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک جماعت کے ایک حصہ نے اس خطرہ کی اہمیت کو پوری طرح محسوس نہیں کیا جو حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ کی وصیت میں مضمر ہے اور جس کی طرف جماعت کے بہت سے دوستوں کی خوا ہمیں اشارہ کر رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے گوناگوں مصالح کے ماتحت انسان کی نظر سے اس کے مستقبل کو مستور کر رکھا ہے اور یہ نظام سرا سر رحمت پر مبنی ہے مگر بعض اوقات اس کی رحمت کا یہ بھی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ الہامات یا خوابوں وغیرہ کے ذریعہ کسی آنے والے واقعہ کی جھلک دکھا کر اپنے بندوں کو ہوشیار کر دیتا ہے تا کہ اگر ممکن ہو تو وہ آنے والی مصیبت کو دعاؤں اور صدقہ وخیرات کے ذریعہ سے ٹال دیں۔یا اگر خدا کے علم میں یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم وہ اس مصیبت کے لئے تیار ہو جا ئیں۔کیونکہ یہ بھی ایک خدائی رحمت ہے کہ وہ اچانک صدمہ پہونچانے کی بجائے پہلے سے ہوشیار کر کے اپنی تلخ تقدیر کو وارد کرے۔پس حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق مختلف لوگوں کو پے در پے مندر خوابوں کا آنا انہیں دو مصلحتوں کی وجہ سے ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ ایک چوکس سپاہی کی طرح ان دونوں رستوں کے لئے تیار رہے۔یعنی ایک طرف وہ اپنے صدقہ و خیرات اور اپنی متضرعا نہ دُعاؤں کو اس حد تک پہنچا دے کہ جو انسانی کوشش اور انسانی طاقت کی آخری حد ہے تا کہ