مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 360 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 360

مضامین بشیر تھا اور میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں اور اس سے اتر کر دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں کہ اس کام میں خدا کے فضل اور دوستوں کے مخلصانہ تعاون سے امید سے بڑھ کر کامیابی ہوئی۔یعنی جہاں اس فنڈ کے تعلق میں قادیان کے ذمہ پچیس ہزار روپے کی رقم لگائی گئی تھی اور اس وقت کے حالات کے ماتحت یہ رقم بھی بہت بھاری سمجھی گئی تھی وہاں قادیان کے دوستوں نے عملاً چالیس ہزار اکیس روپے کے وعدے لکھائے اور میں ذاتی علم کی بناء پر جانتا ہوں کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسے دوستوں کی ہے جنہوں نے یقیناً اپنی طاقت سے بڑھ کر حصہ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی اس قربانی کو قبول فرمائے۔اور مزید خدمت کی توفیق عطا کرے۔آمین ان وعدوں میں سے اس وقت تک عملاً تمیں ہزار آٹھ سو چالیس روپے وصول ہو چکے ہیں۔جن میں سے گیارہ ہزار آٹھ سو بانوے روپے ہمارے خاندان کی طرف سے ہیں۔فالحمد للہ علی ذالک میں امید کرتا ہوں کہ جن دوستوں نے ابھی تک وعدے نہیں لکھوائے یا وعدہ لکھانے کے بعد ابھی تک ادا ئیگی نہیں کی ، وہ بہت جلد اس طرف توجہ دے کر عنداللہ ماجور ہوں گے۔مگر یہ اعلان میں ایک اور غرض سے کر رہا ہوں اور وہ یہ کہ چونکہ انتظامی کاموں کی وجہ سے تصنیف کے کام میں ہرج واقع ہوتا ہے اور آج کل میرے سپر د تصنیف کا کام ہے۔اس لئے کچھ عرصہ سے میں خلافت جو بلی کے کام کی طرف زیادہ توجہ نہیں دے سکا اور عملاً ناظر صاحب بیت المال ہی قادیان کے حلقہ کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔لہذا دوستوں کو چاہیئے کہ اس بارے میں جملہ خط و کتابت ناظر صاحب موصوف کے ساتھ فرمائیں تا کہ کام میں کسی قسم کی روک نہ پیدا ہو۔ویسے بھی اصولاً تمام خط و کتابت عہدہ کے پتہ پر ہونی چاہیئے نہ کہ کسی خاص فرد کے نام پر۔( مطبوعه الفضل ۲۰ جون ۱۹۳۹ء) احمد یہ جھنڈے کے متعلق بعض شبہات کا ازالہ ایک دوست نے احمد یہ جھنڈا لہرانے کی تجویز کے متعلق اعتراض لکھ کر روانہ کیا تھا کہ