مضامین بشیر (جلد 1) — Page 199
۱۹۹ مضامین بشیر اللہ بنصرہ العزیز کے مفصل اور مدلل مضمون محر ر ہ ۲۔نومبر ۱۹۳۳ء میں دوسرے الہامات اور تاریخی واقعات کی روشنی میں ثابت کیا گیا۔جو آج سے قریباً دو ماہ پہلے شائع ہو کر تمام اکناف عالم میں پھیل چکا ہے اور یہ الہام بذات خود ایک عظیم الشان پیشگوئی کا حامل تھا جو ۸ نومبر ۱۹۳۳ء کو کنگ نادرشاہ کے افسوس ناک قتل سے پوری ہوئی مگر یہاں ہمیں اس پیشگوئی کی تفصیلات سے کوئی سروکا رنہیں ہے بلکہ اس جگہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نادرشاہ بادشاہ افغانستان کے متعلق سمئی ۱۹۰۵ء کو ایک پیشگوئی فرمائی تھی جو ۸ نومبر ۱۹۳۳ء کو آکر پوری ہوئی۔اب ہم جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الہامات پر نظر ڈالتے ہیں جو آہ نادرشاہ کہاں گیا‘ والے الہام کے بعد آپ کو ہوئے۔تو صاف طور پر ان میں ایک ایسے زلزلے کی خبر پاتے ہیں جو بہت تباہ کن ہوگا اور اس میں زمین تہ و بالا کر دی جائے گی۔چنانچہ ۳ مئی ۱۹۰۵ء کے بعد الہامات درج ذیل ہیں۔سب سے پہلا الہام و مئی ۱۹۰۵ء کو ہوا جو یہ ہے کہ : - وو پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی“۔۲۸ آہ نادرشاہ کہاں گیا کے الہام کے بعد یہ پہلا الہام تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متعد د جگہ تصریح فرمائی ہے کہ یہ الہام زلزلہ کے متعلق ہے۔چنانچہ ایک جگہ آپ اس الہام کی تشریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : - چونکہ پہلا زلزلہ ( یعنی ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ ) بھی بہار کے ایام میں تھا۔اس لئے خدا نے خبر دی کہ وہ دوسرا زلزلہ بھی بہار میں ہی آئے گا“۔۲۹ پھر اسی دن یعنی ۹ رمئی ۱۹۰۵ء کو دوسرا الہام ہوا کہ : - يَسْتَنبِتُو نَكَ اَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِلَى وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقِّ۔٠ك یعنی لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ زلزلہ کی خبر درست ہے۔تو کہہ دے ہاں خدا کی قسم وہ درست ہے۔“ پھر امئی ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا: - کیا عذاب کا معاملہ درست ہے؟ اگر درست ہے تو کس حد تک ؟‘اکے یہ الہام بھی یقیناً زلزلہ کے متعلق ہے اور واقعہ بھی اسی طرح ہے کہ اس پیشگوئی کے اعلان کے بعد اکثر مخالف حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کرتے رہتے تھے۔کہ یہ جو زلزلہ کی پیشگوئی کی گئی ہے اگر یہ درست ہے تو اس کی کیا کیا علامات اور کیا کیا تفصیلات ہیں۔۷۲