مضامین بشیر (جلد 1) — Page 148
مضامین بشیر ۱۴۸ وہاں حسن واحسان کا ایک کامل نقش اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔یہ دلائل وامثلہ کی بحث میں پڑنے کا موقع نہیں ورنہ میں تاریخ سے مثالیں دے دے کر بتا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بچہ تھے تو بہترین بچہ تھے۔اور جب جوان ہوئے تو بہترین جوان نکلے ، ادھیڑ عمر کو پہو نچے تو ادھیڑ عمر والوں میں بے مثل تھے اور جب بوڑھے ہوئے تو بوڑھوں میں لاجواب ہوئے۔شادی کی تو بہترین خاوند بنے اور جب بادشاہ بنے تو دنیا کے بادشاہوں کے سرتاج نکلے کسی کے دوست ہوئے تو جہان کی دوستیوں کو شر ما دیا اور اگر کوئی آپ کا دشمن بنا تو اُس نے آپ کو اپنا بہترین دشمن پایا۔اس نے اپنی آنکھوں کو آپ کے سامنے ہمیشہ کے لئے نیچا کر دیا۔فوج کی کمان کی تو دنیا کے جرنیلوں کے لئے ایک نمونہ بن گئے۔اور سیاست کی تو سیاست کا ایک بہترین ضابطہ اپنے پیچھے چھوڑا۔انتظامی حاکم بنے تو ضبط و نظم کی مثال بن گئے اور قضا کی کرسی پر بیٹھے تو عدل وانصاف کا مجسمہ نظر آئے۔فاتح بنے تو دنیا کے فاتحین کو ایک سبق دیا۔اور کبھی کسی معرکہ میں حکمت الہی سے مفتوح ہوئے تو مفتوح ہونے کا بہترین نمونہ قائم کیا۔معلم خیر بنے تو جذب و تاثیر میں عدیم المثال نکلے اور عابد کا لباس پہنا تو تعبد کو انتہا تک پہونچا دیا اور پھر ایسا نہیں ہوا کہ کبھی کسی وصف پر زور ہوا اور کبھی کسی وصف پر اپنے اپنے موقع پر ہر وصف کا دوسرے اوصاف کے ساتھ ساتھ کامل طور پر ظہور ہوا۔اور جب بالآخر خدا کی طرف سے واپسی کا پیغام آیا تو موت کا کیسا دلکش اور کیسا پیارا نقشہ پیش کیا کہ نزع کا عالم ہے اور روح جسم کے ساتھ اپنی آخری کڑیاں تو ڑ رہی ہے اور یہاں زبان پر یہ الفاظ ہیں کہ " الصَّلوةُ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُم ه ا يعنى اے مسلمانوں تم خدا کی عبادت میں کبھی سست نہ ہونا۔کہ وہی ہر خیر و برکت اور ہر قوت وطاقت کا منبع ہے۔اور دنیا میں جو لوگ تم سے کمزور ہوں۔اور تمہارے اختیار کے نیچے رکھے جائیں اُن کے حقوق کی حفاظت کرنا۔“ اور جب رشتہ حیات ٹوٹنے کے لئے آخری جھٹکا کھاتا ہے تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ ہیں۔اللَّهُم بِالرَّفِيقِ الا على اللهم بالرفيق الا على العني اے میرے آقا تو اب مجھے اپنی رفاقت اعلیٰ میں لے لے مجھے اپنی رفاقت اعلیٰ میں لے لے مطہر زندگی اور مطہر موت یہ اسی پاک و مطہر زندگی اور پاک و مطہر موت کا اثر تھا کہ جب وفات کے بعد حضرت ابوبکر