میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 51 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 51

41 میرے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا اور سکھوں نے اسی وقت تین صد روپے میری ہتھیلی پر رکھ دیئے۔میں نے اس وقت معزز مسلمانوں کی ایک کمیٹی بنا کر ان کے سپردوہ روپیہ کر دیا۔سکھ ہندو اور مسلمانوں نے بڑے پیار سے ایک دوسرے سے مصافحے کئے اور میرا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔فریقین نے ایک دوسرے کو تحریریں لکھ دیں اور آئندہ اتوار جلسہ کے لئے مقرر کر لیا۔ہم نے کیمپ کمانڈر صاحب کو اطلاع کر دی کہ اب ہندوؤں اور مسلمانوں کی صلح ہو گئی ہے اور یہ کہ آئندہ جھٹکا نہیں کیا کریں گے لہذا ان کو علیحدہ بکرے نہ دیئے جائیں۔آمدہ اتوار کو جلسہ کا انتظام کیا گیا۔میں نے اپنی تقریر سب سے آخر میں رکھی تھی۔یہ جلسہ خدا تعالی کے فضل سے نہایت کامیاب رہا۔سکھ اور ہندو بہت خوش ہوئے۔مسلمانوں نے خوشی سے ان میں مٹھائی اور سوڈا واٹر کی بوتلیں تقسیم کیں۔تب وہاں ہندو مسلم اتحاد زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔بعدہ مسلمانوں میں میری تبلیغ بھی ہونا شروع ہو گئی اور چند آدمی احمدیت میں بھی داخل ہو گئے۔میں چونکہ مارگل نمبر ۲ میں جا کر درس و تدریس کا کام کیا کرتا تھا اور وہاں ہمارے پچتیں احمدی احباب جمع ہو جایا کرتے تھے اور نمازوں کے لئے امام الصلوۃ مجھے ہی بنایا کرتے تھے حالانکہ وہاں ہمارے ضیاء الحق صاحب شیخ منظور احمد صاحب لاہوری اور بابو محمد عبد اللہ صاحب امرتسری بھی ہوا کرتے تھے۔انہی ایام میں شیخ عبد الواحد انسپکٹر خفیہ پولیس بھی رہیں تھے۔یہ چونکہ لاہور جماعت کے جوشیلے نمبر تھے لہذا اتوار کا سارا دن بابو محمد عبد اللہ صاحب کے ساتھ مباحثہ میں ہی گزر جاتا۔طرفین حوالہ جات انکار نبوت اور اقرار نبوت دیتے رہتے مگر کوئی فیصلہ بھی نہ ہو پاتا۔میں نے تنگ آکر بابو محمد عبد اللہ صاحب سے عرض کیا کہ خدا کے لئے اس بحث کو بند کریں اور آئندہ اتوار کو میں شیخ صاحب سے کسی ایک جگہ پر نصف گھنٹہ کے لئے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔شیخ صاحب نے