میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 174
162 ضلع انبالہ میں دوبارہ تقرری کرنال کے پرنسپل سے تبادلہ خیالات قادیان میں تھوڑے دن قیام کر کے مع گھر والوں کے میں انبالہ روانہ ہوگی۔سخت گرمی کے دن تھے۔گھر والوں کو اپنے خسر کے پاس چھوڑ کر خود حلقہ میں تبلیغ کے لئے روانہ ہو گیا۔ایک ماہ دورہ کرنے کے بعد جب واپس پہنچا تو دفتر سے چٹھی آئی کہ بہت جلد کر ٹال میں حافظ عبد الحلیم صاحب بوٹ مرچنٹ کے پاس جائیں۔میں نے اسی وقت تیاری کی اور دوپہر کے وقت حافظ صاحب کے پاس جا پہنچا۔حافظ صاحب مجھے دیکھتے ہی بغیر پانی وغیرہ پوچھنے کے دفتر والوں پر غصہ کا اظہار کرنے لگے۔کیونکہ چند دن قبل مولوی ابو العطاء جالندھری دہلی سے واپسی پر حافظ صاحب کی 1 درخواست پر کرنال اترے تھے اور وہاں کے کالج کے ایک فلسفہ کے پروفیسر سے ان کی گفتگو ہوئی لیکن چونکہ مولوی صاحب نے جلدی واپس قادیان پہنچنا تھا اس لئے جلد ہی واپس چلے گئے۔پروفیسر صاحب نے حافظ صاحب کو آہستہ سے کہا کہ قادیان سے کوئی قابل مولوی منگوائیں کیونکہ ان مولوی صاحب سے بات کر کے میری تسلی نہیں ہوئی۔حافظ صاحب نے دفتر کو ساری تفصیل لکھ بھیجی۔چنانچہ دفتر والوں نے مجھے قاتل مولوی نہیں بلکہ حافظ صاحب سے نزدیک ہونے کی وجہ سے بھجوا دیا۔حافظ صاحب کے خیال میں کوئی بڑا قابل اور آچکن والا مولوی آنا چاہئے تھا اس لئے حافظ صاحب ناراض ہونے میں حق بجانب تھے اور میں بھی قصور وار نہ تھا کیونکہ میں تو دفتر کے حکم کی تعمیل میں آگیا تھا۔ان کی اس ناراضگی کا مجھے بڑا قلق ہوا کہ حافظ صاحب کا میرے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہئے تھا۔ادھر پروفیسر صاحب کی طرف سے آدمی آیا کہ اپنے مبلغ صاحب کو لے کر جلد تشریف لے آئیں۔ہم