میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 171
159 پر انہیں بتایا کہ اے دوستو آپ ہے تو خوب ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ کوئی ایسا نہی نہیں جسے حمل نہ ہوا ہو۔کسی کو "توریت" کا حمل ہوا اور وہ حامل توریت کہلائے کسی کو زبور کا حمل ہوا اور وہ حائل زبور کہلائے، کسی کو انجیل کا حمل ہوا اور وہ حاصل انجیل کہلائے اور کسی کو قرآن مجید کا سب سے بڑا حمل ہوا اور حضور حامل قرآن کہلائے اور قرآن مجید میں بھی مومنوں کو یہی دعا سکھلائی گئی ہے کہ ربنا و لا تحملنا مالا طاقة لنا به" اور اب حافظ صاحب بھی نہیں دعا کرتے رہتے ہیں جس کے معنی یہ کہ اے ہمارے رب ہمیں اتنا حمل نہ کرنا جسے ہم اٹھا نہ سکیں۔مگر ان سے مراد عورتوں والے حمل نہیں۔یہ ان بزرگوں کو خدا کے کلام کا حمل ہوتا تھا مگر حافظ صاحب کا خیال اپنی ماں بہن کی طرف چلا گیا حالانکہ وہ حمل مراد ہی نہیں ہیں۔اس پر پبلک نے یہ جان لیا کہ حافظ عبد القادر صاحب صرف تمسخر کرنا ہی جانتے ہیں غرضیکہ یہ مناظرہ بھی بہت کامیاب رہا اور لوگوں پر بہت اچھا اثر ہوا۔بعدہ کتابیں وغیرہ لے کر میرپور کی جانب روانہ ہو گئے۔وہیں بعد جلسہ مجھے حکم ملا جد کو ٹلی میں مولوی کرم دین سنار سے مناظرہ کہ روپڑ کی تحصیل سے کئی رپورٹیں حضور کی خدمت میں پہنچیں کہ جب سے ہمارے مبلغ محمد حسین صاحب کو دفتر نے بلوا کر پونچھ بھیج دیا ہے ہماری جماعتیں ست ہو گئی ہیں چنانچہ اب ہمیں ہمارا مبلغ واپس کیا جائے۔اس لئے آپ اسی جلسہ کے بعد مولوی محمد صادق صاحب مبلغ ساڈا کو ادھر کا چارج دے کر آئیں۔جلسہ کے بعد میں مولوی صاحب کو ہمراہ لے کر جہلم دھنیال نگیال کا دورہ کراتے ہوئے براستہ میر پور کوٹلی پہنچا۔وہاں مولوی کرم دین سنار نے مناظرہ کی طرح ڈالی ہوئی تھی۔چنانچہ اس نے مناظرہ کیا۔وہ مناظرے کے دوران کہنے لگا کہ میں ایسے بم چلاؤں گا کہ مرزائیت اڑ جائے گی۔میں