میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 158 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 158

146 میں پرامن طریق پر ہو مگر لال حسین صاحب حکومت کی پرواہ نہیں کر رہے۔میرے نزدیک یہ مناظرہ حکومت کی شمولیت کے بغیر نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ اس مجلس میں زیادہ تر زمیندار شریک ہو رہے ہیں اس لئے مناظرہ اب نہیں ہوتا چاہیے۔لال حسین صاحب اپنی تقریر ختم کریں اور اپنی راہ لیں۔لہذا جلسہ برخاست ہو گیا اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔اس طرح لال حسین صاحب کو وصولی کچھ بھی نہ ہوئی۔گناہ کیا مگر بے لذت۔اس لئے وہ ادھر ہی کسی نزدیکی گاؤں میں چلے گئے اور میں واپس پونچھ میں چلا گیا۔دو دن کے بعد ہی منشی عبد الکریم صاحب آف سلواہ کو لال حسین نے شرائط مناظرہ طے کر کے پھنسا لیا۔وہ میرے پاس پونچھ پہنچے کہ لال حسین مرتد نے دھر مسال مینڈر میں بڑا شور مچا رکھا ہے کہ کوئی مرزائی میرا نام سن کر اس حلقہ میں نہیں رہتا اور بھاگ جاتا ہے۔غرضیکہ ہم نے اسی وقت کتابوں کے ٹرنک گھوڑے پر رکھے اور ہم چھ احمدی مع دو لاہوری احمدیوں کے پیدل چل پڑے۔رات اندھیرے میں ہم دھر مسال پہنچے۔وہاں کھانے کا انتظام پہلے سے تھا۔کھانا کھا کر ہم سو گئے۔ان دنوں وہاں عجب سنگھ صاحب تھانیدار لگے ہوئے تھے۔وہ فجر کی نماز کے بعد مجھے ملنے آئے اور کہنے لگے کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیں۔میں نے کہا ہمیں دو میز دو کرسیاں اور کچھ دریاں چاہیں۔کہنے لگے کہ وقت آنے پر مل جائیں گی۔وقت مقررہ پر ہم میدان مناظرہ میں پہنچ گئے۔وہاں کرسیاں میز اور دریوں وغیرہ کا انتظام تھا اور بکثرت لوگ آئے ہوئے تھے۔سونا گلی کوئی بھابڑہ ٹائیں ڈھرانہ سلواہ، پٹھاناں تیر ، شیندرہ اور گر ساہی وغیرہ سے احمدی احباب بھی کافی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔وہاں ایک ہندو ڈاکٹر گوری شنکر تھے جو قادیان کے ڈپٹی سری ناتھ کے رشتہ دار تھے۔انہیں شرائط مناظرہ طے کرتے وقت منصف مقرر کر لیا۔میں نے لال حسین سے کہا کہ شرائط