میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 140 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 140

128 دیا اور صدر ہونے کی حیثیت میں کہا کہ مولوی صاحب نے اگر کوئی اعتراض کرنا ہی تھا تو صدر مجلس سے اجازت تو لی ہوتی۔معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب اس قانون سے واقف نہیں ہیں۔ہم درگزر سے کام لیتے ہیں۔میری سمجھ میں نہیں آرہا که مولوی صاحب کو ایسا سوال کرنے کی کیا سوجھی۔کیا مولوی صاحب کے پاس ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کی فہرست ہے یا قرآن پاک حدیث شریف، تفسیریا تاریخ میں کہیں اگر لکھا ہے تو وہ دکھا دیں۔لیکن وہ بھی ایسا نہیں دکھا سکتے اور اگر کسی کم علم ملاں نے یہ بتا دیا ہے جو یہ کہہ رہے ہیں یا مان چکے ہیں تو یاد رکھیں کہ حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل اور حضرت مسیح ابن مریم تو ان کے ہاتھ سے گئے۔اور ایک رسول کا انکار بھی انسان کو کافر بنانے کے لئے کافی ہے اب مولوی صاحب کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔مولوی صاحب یہ جواب سن کر خاموش ہو گئے اور ایک سکھ بولا کہ کٹا انجمن کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے" غرضیکہ بڑی خاموشی اور سکون کے ساتھ یہ جلسہ بڑی کامیابی کے ساتھ برخواست ہوا۔دھوری ریاست پٹیالہ میں تھانیدار کی مخالفت اور ہمارا شاندار تبلیغی جلسہ ایک دفعہ میں نے دھوری میں تقریر کرنے کی منادی کرائی۔تھوڑی دیر کے بعد ایک اور منادی ہو گئی کہ رات کو کوئی تقریر نہیں ہو گی۔ہمیں بڑی تشویش ہوئی۔مارے وکیل شیخ عباد اللہ صاحب نے پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ یہ منادی تھانے والوں کی طرف سے کرائی گئی ہے۔ہم نے پھر منادی والے سے کہا کہ دوبارہ اس بات کی منادی کرو کہ تقریر ضرور ہوگی۔منادی کرنے والا کہنے لگا کہ ہم تھانے والوں کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ہم نے اپنے نوجوانوں کو گھنٹی خرید کر دی اور وہ منادی کرنے لگے