میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 125
113 لے کر آئے کہ راجورہ گاؤں والے سب کے سب شدھ یعنی آریہ ہونے کو تیار ہو گئے ہیں۔میں یہ سن کر اسی وقت وہاں پہنچنے کو تیار ہو گیا۔ہمارے گاؤں والوں کی وہاں رشتہ داری تھی۔اس لئے ان سے کہہ دیا کہ کل دوپہر تک تم بھی وہاں آجاتا۔ہمارے گاؤں سے ہیں میل کا سفر تھا۔گھوڑی لے کر چل دیا۔گاؤں سے جب چار میل کا سفر رہ گیا تو میں نے ہاتھی کے پاؤں کے نشانات دیکھے۔میں نے اسی وقت الم ترکیف فعل والی سورۃ کا ورد شروع کر دیا اور گاؤں پہنچنے تک پڑھتا رہا۔جب میں باغ میں پہنچا تو وہاں اسی راجہ مشو کی صدارت میں جلسہ ہو رہا تھا اور لیکچر دینے والا آریہ میرا واقف تھا۔مجھے دیکھتے ہی اس کا لیکچر ڈھیلا پڑ گیا۔میں جلسہ والی جگہ سے ذرا دور ہی گھوڑی سے اتر گیا اور گھوڑی کو آم کے درخت کے ساتھ باندھ دیا اور خود ایک کٹے ہوئے درخت کے تنے پر بیٹھ کر اس کی تقریر کے نوٹس لینے لگ گیا اس لیکچرار نے راجہ کے قریب ہو کر اسے بتایا کہ قادیانی مولوی آگیا ہے یہ ہمارے جلسہ میں ضرور گڑ بڑ کر دیگا اس لئے اسے فورا یہاں سے نکال دینا چاہئے۔راجہ مشئو نے میری طرف ایک سپاہی کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ یہ ہمارا پرائیویٹ جلسہ ہے۔سپاہی مسلمان تھا۔اس نے سلام کرنے کے بعد پیغام دے دیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ پٹیالی سے گورنمنٹ کی طرف سے آئے ہیں یا را بہ کی پولیس کے ہیں؟ کہنے لگا کہ میں پٹیالی کے تھانہ سے آیا ہوں میں نے کہا کہ آپ گورنمنٹ کے آدمی ہیں راجہ صاحب کے ماتحت نہیں ہیں۔دوسری بات یہ کہ آپ مسلمان نہیں اور یہ مسلمانوں کو مرتد کرنے آئے ہیں اور مجھے اپنے بھائیوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔آپ کا فرض ہے کہ میری مدد کر کے ثواب حاصل کریں۔تیسری بات یہ کہ یہ کوئی پرائیویٹ جلسہ نہیں ہے بلکہ کھلے راستہ میں ہو رہا ہے۔ہر راہ گیر سننے کا حق رکھتا ہے ورنہ یہ کسی مکان کے اندر جلسہ کرتے۔