میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 102 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 102

90 ایک دن صبح کے ولایت خان نمبردار اور کفر کے فتووں کی حقیقت وقت لوہاری کے غیر احمدی نمبر دار ولایت خان صاحب ہمارے پاس چوپال پر آئے اور ہنس کر کہنے لگے کہ مولوی صاحب کل ہمارے دیو بندی مولوی سرور حسین فاضل نے فتوی دیا کہ قادیانیوں سے سلام کرنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے اور اگر ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھ کر ان کے ساتھ کوئی کھانا کھا لے تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ابھی انہوں نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ تھوڑی دور مولوی سرور حسین دیو بندی آتے ہوئے دکھائی دیئے۔میں نے اس نمبردار کو فورا چوپال کے اندر بھیج دیا۔وہ کواڑ سے دیکھتے بھی رہے اور کپڑا اوڑھے لیٹے بھی رہے۔دیو بندی مولوی صاحب آئے۔مجھ سے مصافحہ وغیرہ کر کے خیریت دریافت کی۔ناشتے کا وقت تھا میرا ایک شاگرد نور محمد خاں ہمارے گھر سے کھانا لے آیا۔دیو بندی مولوی صاحب کے بھی ہاتھ دھلائے اور ایک ہی برتن میں کھانا کھانے لگے۔چپکے سے نمبردار صاحب اندر سے اٹھ کر ہمارے پاس دالان میں آگئے۔میں نے انہیں بھی ساتھ بٹھا لیا اور سالن روٹی اور منگوا لیا اور ان سے کھانے کو کہا۔نمبردار صاحب بولے تم دونوں قادیانی مل کر کھاؤ میں تو دیو بندی ہوں میں تو نہیں کھا سکتا۔دیو بندی مولوی صاحب شرمندہ ہو کر بولے کہ نمبردار یار دل لگی کی باتوں کو بھی شریعت ہی سمجھ لیتے ہو آئیں آپ بھی کھائیں۔نمبردار ان کے فتووں کی حقیقت پہلے بھی جانتا تھا۔اس نے بھی ناشتہ کیا۔بعدہ گالیاں نکال کر کہنے لگا کہ اس کی ماں کو میں یہ کروں جو دیو بندی مولویوں کے فتوؤں کو سچا کہے۔قادیانی بچے ہیں۔اپنے مذہب کے پکے ہیں۔یہ غیر احمدی کا جنازہ نہیں پڑھتے چاہے باپ ہی کیوں نہ ہو اور اس پر عمل کر کے دکھا دیتے ہیں چاہے ساری دنیا مخالف ہو جائے۔اس لئے ہم تو قادیانی مولویوں کے فتوؤں کو سچا سمجھتے ہیں چاہیے۔