میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 101 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 101

89 نے ہمیں بتایا تھا کہ جو ان قادیانیوں کو السلام علیکم کہتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے اور جو ان کے ساتھ کھانا کھاتا ہے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ جو بھی دیو بندی آتا ہے وہ قادیانی مولوی صاحب سے السلام علیکم بھی کرتا ہے۔مصافحہ بھی کرتا ہے اور کھانا بھی ساتھ بیٹھ کر کھا لیتا ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ انسپکٹر صاحب بے چارے شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے کیونکہ بری طرح پھنس چکے تھے۔میں نے ان کی جان چھڑانے کے لئے جھٹ کہہ دیا کہ یہ انسپکٹر صاحب اگر اس بات کے قائل ہوتے تو یہ اس جگہ آتے ہی کیوں۔یہ اس آیت کو جانتے ہیں کہ لم تقولون مالا تفعلون بعض مولوی جلد باز ہوتے ہیں وہ جھٹ فتوی دے دیتے۔ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ آج کل تو ہمیں کوئی ایسا فرقہ ملتا ہی نہیں ہے کہ جس پر دوسرے فرقہ والوں کا فتویٰ نہ لگا ہوا ہو۔اب ضرورت تو اس بات کی ہے کہ مل کر کافروں کو مسلمان کیا جائے۔کافی لمبا عرصہ سے مسلمان آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔اب اتحاد کی ضرورت ہے نہ کہ اختلاف کی۔کیوں مولانا سچ ہے کہ نہیں مولانا بولے بالکل سچ ہے۔اس طرح انسپکٹر صاحب کی جان چھوٹی۔اب وہ پوچھنے لگے کہ مولوی مهدی حسن صاحب فاضل دیوبندی کہاں ہیں۔میں نے انہیں ساری بات تفصیل سے بتادی اور کہا کہ اب وہ آپ کے مولوی صاحب نہیں رہے بلکہ بعد تبادلہ خیالات اب وہ ہمارے احمدی بھائی بن کر قادیان شریف میں ہیں اور وہاں پڑھائی شروع کر دی ہے۔مجھے ان کی طرف سے خیریت کی چٹھی بھی موصول ہو گئی ہے۔آپ فکر نہ کریں۔یہ سن کر وہ ششدر رہ گئے اور کہنے لگے کہ کیا یہ جو کہانی میں سن رہا ہوں حقیقت ہے؟ پھر انہوں نے کوئی بات نہ پوچھی اور ساری رات کروٹیں بدلتے رہے اور اف اف کرتے رہے صبح ہم نماز پڑھنے گئے تو بعد میں مولوی انسپکٹر اپنے رفو چکر ہوئے کہ کبھی دکھائی نہ دیئے۔