میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 70 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 70

58 کر کے راجپوتوں کی سخت توہین کی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی تلوار سے ڈر کر اپنا آبائی مذہب جھٹ تبدیل کر لیا مگر چہار بھنگی ، تیلی وغیرہ تلوار سے نہ ڈرے اور انہوں نے اپنا مذہب تبدیل نہ کیا۔کیا آپ راجپوتوں کی یہی بہادری ظاہر کرتے پھر رہے ہیں کہ راجپوت اتنے ڈرپوک اور بھوکے تھے کہ جب انہیں تلوار اور پائے دکھائے گئے تو جھٹ ڈر کر اور میٹھی چیز دیکھ کر مسلمان ہو گئے۔ٹھاکر صاحب آپ نے تو تاریخ دان ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔اب آپ بتائیں کہ جب حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اس ہندوستان میں درویشی کی حالت میں آئے تھے تو ان کے ہاتھ میں کون سی تلوار تھی اور ان کے ہمراہ کونسی فوج تھی؟ ہاں بزرگی ، نیکی تقوی ، طہارت ، خوش اخلاقی، دلائل ، عبادت ، ریاضت، شرافت اور تبلیغ کی تلوار تھی جس نے راجہ اور پر جا کو ان کے سامنے جھکا دیا اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو گئے ورنہ جب مسلمان بادشاہ اکبر تخت نشین ہوئے تو ان کی بیوی جودہ بائی تھی اور وہ تمام عمر بت پرستی کرتی رہی اور ہندو ہی رہی۔اور اسے جبرا مسلمان نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ دین حق میں جبر نہیں ہے۔بلکہ لا اکراہ فی الدین " کا سبق دیا جاتا ہے۔دین حق ہمیشہ اپنی صداقت اور خوبیوں سے پھیلا ہے۔آپ آج بھی قادیان جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے ہندو اور سکھ مسلمان ہو چکے ہیں۔اب تو مسلمانوں کے ہاتھ میں دین حق پھیلانے کے لئے تلوار نہیں ہے اور نہ اس سے قبل ہی دین حق تلوار سے پھیلا۔البتہ اتنا ضرور ہے کہ جس نے تلوار سے دین حق کو مٹانے کی کوشش کی اسے تلوار ہی سے روکا گیا۔اب آپ دلائل سے بات کریں انشاء اللہ دلائل ہی سے جواب دیئے جائیں گے۔اس وقت کافی رات گذر چکی تھی مگر مرد بدستور چوپال میں اور عورتیں مکانوں کی چھتوں پر بیٹھی تھیں اور سب میرے جواب کے منتظر رہتے تھے۔ٹھاکر صاحب بولے کہ آپ کے عرب والے نبی نے نو