میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 69
57 دے یا بانجھ ہو جائے تو اسے ہندو اور مسلمان دونوں قصابوں کے پاس فروخت کر آتے ہیں تو یہ کوئی انجو بہ نہیں۔اب رہا یہ سوال کہ بیٹھا دودھ دینے کی وجہ سے وہ ماں ہے تو پھر ٹھاکر صاحب آپ یہ بتائیں کہ کیا بھینس ، اونٹنی اور بکری وغیرہ کا دودھ کڑوا ہوتا ہے؟ جب ان کا دودھ بھی میٹھا ہے تو گائے اگر ماں ہے تو بھینس نانی ہوئی اور بکری بہن ہوئی تو پھر ان کی عزت ہندوؤں کے دلوں میں کیوں نہیں ہے؟ اس کی وجہ اب ٹھاکر صاحب ہی بتائیں گے کہ ایسا کیوں نہیں ہے؟ (۲) ہر مذہب میں ماں باپ کی ایک جیسی عزت کرنے کا حکم ہے تو پھر ہمارے یہ ہندو بھائی کیا ظلم کرتے ہیں کہ گائے ماں کو مقدس جان کر اتنی زیادہ عزت کرتے ہیں کہ ایسی عزت نہ کرنے والوں کو چیر کر رکھ دینے کو تیار ہیں مگر اپنے باپ بیل کو ہال میں جو نتا یا ان کی مدد سے کنواں چلانا گاڑی کھینچتا کولہو چلانا اس پر بوجھ لادنا اور ذرا ہی کو تاہی پر مار مار کر فتا کر دیتا اور ہر وقت اس پر مصیبت کھڑی رکھنا اور ذرا بھی عزت نہ کرنا حالانکہ اس باپ کی کوشش سے ہی گائے دودھ دینے کے قابل اور ماں بنی تھی۔(۳) اگر گائے ہاں کا ہی مقام رکھتی ہے جو انہیں بچپن میں دودھ پلاتی ہے تو پھر اس کے مرنے پر وہ کیوں چماروں کے حوالے کر کے اس کی کھال اترواتے ہیں اور اس کے گوبر او پلے اور پیشاب سے چننا متر بناتے ہیں اور اس کی کھال کے جوتے پہنتے ہیں۔یہ سب تقدیس کے دعوے ان کی ان حرکات سے باطل ہو جاتے ہیں۔انہوں نے صرف ہندوؤں کو مسلمانوں سے دور رکھنے کے لئے یہ ایک جذباتی طریق اختیار کیا ہوا ہے (۳) اگر ناکارہ بھینس بکری اونٹنی بھیٹر وغیرہ ذبح کئے جائیں اور ان کے مرنے پر ہی چڑہ میسر آتا ہو تو پھر پانچ صد روپے کا بھی جوتا نہیں مل سکتا اور لوگ دھوپ اور سردی میں ننگے پاؤں ہی چلیں اور ہر وقت کانٹے ہی نکالتے رہیں۔(۲) دوسرا سوال کہ دین حق تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ٹھاکر صاحب نے