میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 68
56 کی کوئی خوبی بیان نہیں کر سکتے بلکہ ایک ایسی طرح ڈالنا چاہتے ہیں جس سے آپ کی کمزوری پر پردہ پڑا رہے۔میں بھی جذبات کو بھڑکا کر لڑائی کرا سکتا ہوں مگر ہمارا دین حق سلامتی کا مذہب ہے۔یہ جنگ کو روکنا اور صلح کو قائم کرنا چاہتا ہے۔ٹھاکر صاحب بولے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔اسلام تو پھیلا ہی جنگ سے ہے۔مسلمان چور اور ڈاکو بن کر لوگوں کو لوٹتے رہے ہیں میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوا ہے اور ہمارے پاس ساری کتابیں موجود ہیں آپ کی کیا طاقت ہے کہ میری باتوں کا جواب دے سکو اور اگر کھجلی ہو رہی ہو تو میں ابھی اتارنے کے لئے تیار ہوں۔تماؤ کیا مرضی ہے۔اس کی یہ باتیں بن کر تین چار آدمیوں نے ارادہ کیا کہ اس ٹھاکر کو دو چار رسید کر کے مزا چکھایا جائے اور بعض ٹھاکر صاحب سے لڑنے بھی لگے۔میں نے بڑی محبت سے انہیں روکا اور کہا کہ جس طرح میں آپ کا مہمان ہوں بھائیو اسی طرح ٹھاکر صاحب ہمارے مہمان ہیں۔ہمارا دین حق ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کوئی تمہارا مہمان بھی غلطی کرے تو تمہارا یہ فرض ہے کہ تم اسے معاف کر دو اور اکرام ضیف کو ملحوظ رکھو۔میری یہ بات سن کر ٹھاکر صاحب بھی شرمندہ ہوئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ اس پنجابی کی ان لوگوں میں مجھ سے زیادہ عزت ہے۔خیر اب وہ صحیح راستے پر آگیا تھا۔میں نے کہا ٹھاکر صاحب نے یہ دو الگ الگ سوال کئے ہیں۔پہلا تو گائے کے متعلق ہے کہ مسلمانوں نے جگائے پر ظلم کیا ہوا ہے اور دوسرا ه که دین حق تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔میں ان دونوں سوالات کے جوابات علیحدہ علیحدہ دیتا ہوں۔(1) ہم سب مسلمان دودھ دینے والے سب جانوروں کی خدمت کرتے ہیں۔چاہے گائے ہو یا بکری، بھینس ہو یا اونٹنی ہم سب کو چارہ بھی ڈالتے ہیں اور راتب بھی کھلاتے ہیں۔اس کی بچپن ہی سے نگہداشت کرتے ہیں مگر ہم ان تمام جانوروں کو اپنا خادم سمجھتے ہیں نہ کہ بزرگ۔ان میں سے جو دودھ نہ