میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 67 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 67

55 جولاہا تیلی و موچی وغیرہ تو یہ سب ہندوؤں سے ہی ہمارے ہاں مسلمان ہوئے ہیں اور ادھر بھی موجود ہیں۔مسلمان بھی ہیں اور ہندو بھی۔فرق صرف یہ ہے کہ آپ ان ہندوؤں کو جو چمار ، بھنگی، تیلی و لوہار میں کمی (کمین) جان کر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ہم لوگ ان کے مسلمان ہو جانے پر اور صاف رہنے کی وجہ سے ان سے نفرت نہیں کرتے کیونکہ یہ سب پیشیوں کے نام ہیں اور پیشوں کے بغیر دنیا کا کام چل ہی نہیں سکتا۔اس لئے وہ لوگ ہمارے مددگار ہیں۔کسی بات میں ہم ان کے اور کسی بات میں وہ ہمارے محتاج ہیں۔اناج حاصل کرنے کے لئے اگر وہ ہمارے محتاج ہیں تو جو تا تیل اور صفائی رضائی کے لئے ہم ان کے محتاج ہیں۔اس لئے میں نے بتایا تھا کہ دید ابتدائی قاعدہ ہے۔یہ ساری دنیا میں محبت و اتحاد نہیں پیدا کر سکتا اور اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو اس کی شرن میں آجائے اس کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے۔ٹھا کر صاحب بولے ہماری مقدس گائے کھانے والے لوگوں سے ہمارا اتحاد نہیں ہو سکتا اور یہ کہ ہم گائے کھانے والوں کو چیر کر رکھ دیں گے۔ہمارا راجپوتی خون اب جوش میں ہے۔جو ہمیں ماں کی طرح میٹھا میٹھا دودھ پلاتی ہے یہ ڈشٹ مسلمان اس کو ذبح کر دیتے ہیں اور اس کا سر تن سے جدا کر دیتے ہیں۔چونکہ وہ راجپوت مسلمان بھی گائے کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس لئے ٹھاکر صاحب نے ان کے جذبات بھڑکانے کی خوب کوشش کی۔جب وہ ذرا خاموش ہوا تو میں نے کہا کہ ٹھاکر صاحب آپ تو غصہ میں آگئے۔حالانکہ اپریشک کا یہ فرض ہے کہ اپنے علم سے محبت کے ساتھ برے فعل کی برائی اور بھلے کام کی بھلائی بیان کر کے پبلک کو سوچ بچار کا موقع دے۔اس جگہ کس نے گائے کو تکلیف دی ہے کہ آپ خوامخواہ اپنے اور دیگر دوستوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔آپ کے اس بویے سے مجھ پر کوئی اچھا اثر نہیں ہوا بلکہ یہی معلوم ہوا ہے کہ آپ اپنے مذہب