میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 216
204 حوالے پڑھتے رہے اور صبح جب وفد کے اراکین دوبارہ حاضر ہوئے تو ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ "اتو کے پھو " تم نے احمدیوں کو چھیڑا کیوں تھا؟ اب ان کا حق تھا کہ تم پر اعتراض کرتے اور پھر لطف یہ ہے کہ انہوں نے ساتھ ساتھ شیعہ کتب سے حوالے دیئے ہوئے ہیں۔اب تم اپنی کتابیں لکھنے والوں پر دعوی کر دیا یہ ثابت کرد کہ یہ حوالے غلط ہیں۔بیچارے شرمندہ ہو کر گھر کو لوٹ گئے۔ہمارے احمدی اور لاہوری بھائی بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ نے تو کمال کر دکھایا۔یہ تو ہمارے قابو نہیں آتے تھے۔غیر احمدی احباب بھی شکریہ ادا کرنے آئے اور کہنے لگے کہ شیعہ ہمیشہ ہمیں یہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ تمہارے بڑوں نے یہ کرتوت کی تھی۔آج پتہ لگ گیا کہ یہ شیعوں ہی کی کرتوت تھی۔رات بارہ بجے یہ جلسہ دعا پر ختم ہوا۔اگلے دن احمدی اور غیر احمدی احباب بڑی کثرت سے ملتے رہے۔تیسرے دن ہم جموں سے روانہ ہو کر اودھم پور چلنی نماز کی ظاہری برکت کدھ سے ہوتے ہوئے بوٹ پہنچے۔رات وہیں رہے۔صبح مولوی صاحب مع اپنی اہلیہ صاحبہ کے سری نگر چلے گئے اور میں مزدور تلاش کرتا رہا۔چونکہ میں نے باون میل پیدل سفر کرنا تھا اس لئے دو مزدور کرایہ پر لے کر سفر کا آغاز کر دیا۔سولہ میل کے فاصلہ پر استر گاؤں میں رات کائی۔صبح پھر چل پڑے۔کھلنی سے کھلنی سے تین میل پیچھے ہی مزدور تھک کر رہ گئے اور کہنے لگے کہ ہم مزید نہیں چل سکتے۔مزدوروں نے اپنا قہوہ بنایا اور ساتھ روٹی کے سوکھے ٹکڑے کھا کر سو گئے اور میں نے زمین پر کمبل بچھا کر نماز پڑھنا شروع کر دی۔قریب ہی ہندوؤں کا مکان تھا۔میں نماز سے فارغ ہو کر تسبیح وغیرہ کر رہا تھا کہ ایک ہندو عورت صاف تھالی میں گیہوں کے چار چھلکے (چپاتیاں) اور ساتھ بینگن کا سالن چپکے سے میرے آگے رکھ کر چلی گئی۔میں حیران تھا مگر خدا تعالیٰ کی عطا سمجھ کر کھا گیا اور خدا