میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 215
203 تھے۔تو پھر کون تھے۔تمام کے تمام شیعان علی تھے۔انہوں نے چٹھیاں لکھ کر حضرت حسین کو تحریم دلائی کہ اپنے باپ کی مسند پر اگر بیٹھو۔ہم آپ کی رعایا ہیں آپ کے مرید ہیں یزید پلید کے جانی دشمن ہیں۔خدا کے لئے جلدی آجاؤ۔اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔امام صاحب نیک انسان تھے انہوں نے اعتبار کر لیا اور پہلے امام مسلم کو بھیجا۔انہوں نے بڑی آؤ بھگت کر کے شیدائی ہونے کا ثبوت دیا۔مسلم کو بے دریغ شہید کر کے اپنی شقاوت قلبی کا ثبوت دے دیا۔غرضیکہ تفصیلاً بیان کیا کہ ان ظالم شیعوں نے اپنا نالتہ اعمال سیاہ کیا۔امام حسین کو قید کر کے پانی وغیرہ بند کیا۔خاندان کے افراد کو گرفتار کیا۔امام کا سر تن سے جدا کر کے نیزہ پر ٹکا کر خوشی منائی۔یہ سارے حالات حوالہ جات کے ساتھ پیش کئے۔ہمارا جلسہ اتنا دلچسپ رہا کہ جتنے بھی مرد و زن بیٹھے ہوئے تھے جلسہ کے انتقام پر واپس گئے اور ہر مذہب اور ملت کی عورتین اور مرد جاتے وقت سب شیعوں کو ملامت کرتے گئے۔میں نے شیعوں پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے قرآن کریم کی روشنی میں ثابت کیا کہ اس وقت سے بطور لعنت شیعوں کے گھر میں ماتم پڑا ہوا دیکھتے ہیں۔اگر کسی اور قوم کا جرم ہوتا تو یہ رونے پیٹنے چیخنے چلانے کی لعنت ان پر پڑنی چاہئے تھی۔چونکہ انہوں نے یہ بہت بڑا جرم کیا تھا اس لئے یہ سزا بھی ان کے لئے قیامت تک رہے گی۔وہاں جلسہ کی ڈائری لکھنے والے ایک احمدی تعلیدار صاحب اور دوسرے شیعہ جو الدار تھے۔میں سارے حوالہ جات ساتھ ساتھ لکھاتا جاتا تھا۔آخر شیعہ صاحبان کا ایک وفد سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کے پاس گیا اور یہ صاحب خود بھی شیعہ تھے۔کہنے لگے کہ احمدی مولوی صاحب نے ہمیں قاتل حسین کیا ہے اور ہم ان پر مقدمہ دائر کرنا چاہتے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ صاحب کہنے لگے کہ صبح کے وقت آنک۔رات میرے پاس ڈائریاں آجائیں گی اور پتہ چل جائے گا۔سپرنٹنڈنٹ صاحب رات بھر میرے