میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 89 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 89

77۔پہنچ گئے۔حضور کی آمد دو بجے والی ریل پر متوقع تھی مگر حضور نو بجے شب پہنچے۔حضور کے دیدار کے لئے اسٹیشن پر بہت بڑا ہجوم پہنچ چکا تھا۔اس دن پلیٹ فارم کے اتنے ٹکٹ فروخت ہوئے کہ ختم ہی ہو گئے۔مجبوراً اسٹیشن ماسٹر نے لوگوں کو بغیر ٹکٹ پلیٹ فارم پر آنے کی اجازت دے دی۔ہم مبلغین اور دوسرے احمدی احباب نے آپس میں ہاتھ پکڑ کر لائنیں بنائی ہوئی تھیں۔حضور گاڑی سے اتر کر لائنوں کے درمیان سے گزر کر اپنی کار میں سوار ہو کر تجویز شدہ رہائش گاہ تشریف لے گئے۔اس وقت اس علاقہ کے (امیر المجاہدین) چوہدری فتح محمد سیال صاحب تھے۔انہوں نے تمام مبلغین کی حضور سے ملاقات کروائی قریباً نصف شب گزر چکی تھی۔حضور مصافحہ کرنے کے بعد اس کمرہ میں تشریف فرما ہوئے اور تمام مختلف علاقوں کے مبلغین سے حالات دریافت کئے بعدۀ مبلغین کو آرام کرنے کی اجازت دی اور فرمایا کہ آپ سب کو صبح کا ناشتہ کرنے کے بعد ساند من پہنچنا ہو گا اور میں انشاء اللہ تاج محل دیکھ کر آؤں گا۔ہم سب ناشتہ کرنے کے بعد ساند من پہنچ گئے۔وہاں اکبر خاں صاحب کے مکان کے سامنے والے وسیع میدان میں حضور کی دعوت کا انتظام کیا گیا تھا جس میں تمام مہمان بھی شریک ہوئے۔مبلغین کے مشورہ سے جماعت کے احباب نے یہ انتظام کیا کہ ایک ایک فرلانگ کے فاصلہ پر ایک ایک احمدی دوست پٹانے دے کر بٹھا دیئے جائیں اور جب حضور آگرہ سے چل کر شہر سے باہر آجائیں تو وہاں کا آدمی پٹاخہ چلا دے اور جب آپ وہاں سے آگے نکل آئیں تو دوسرا آدمی پٹاخہ چلا دے اور اسی ترتیب سے چلاتے جائیں حتی کہ جب آپ گاؤں میں داخل ہوں تو سب آپ کی آمد سے باخبر ہوں جب حضور کا گاؤں میں ورود ہوا تو مخالفوں نے اکبر خال صاحب کے مکان کو آگ لگا دی ہم سب نے مٹی وغیرہ ڈال کر آگ بجھانے کی پوری کوشش شروع کر دی۔آگ کے شعلے دور دور سے دکھائی دے رہے تھے۔مکان کافی