میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 73
61 وقت یاد ہیں تحریر کر دوں گا باقی سب ریکارڈ قادیان میں ہی رہ گیا تھا۔خیر فجر کی نماز کے لئے بہت پہنچا۔وہاں ایک فقیر طبع آدمی جسے ہم میاں صاحب کہا کرتے تھے اسد علی نامی تھا۔وہ میرا بہت گردیدہ ہو چکا تھا۔وہ بھی رات کو گفتگو کے اختتام پر ہی سویا تھا۔اسے بیدار کیا اور اذان کہلوائی۔بعدہ دونوں نے نماز باجماعت ادا کی۔باقی لوگوں نے ہم سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ ہم جمعہ سے نمازیں پڑھنا شروع کر دیں گے۔نماز کے بعد دعا اور قرآن کریم پڑھ کر سو گیا۔جب حضور ہمیں الوداع کہنے کے لئے ڈلہ موڑ تک تشریف لائے تھے تو اس وقت یہی نصیحت کی تھی کہ "کثرت سے دعائیں کرنا ، نماز کے بعد تسبیح و تحمید کرنا اور خدا کو ہی قادر مطلق جاننا اور صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا۔کیسی بھی مخالفت ہو گھبرانا نہیں بلکہ میدان میں شیر بننا۔مختلف چاہے کتنا بڑا عالم ہو اسے معمولی سمجھنا اور نڈر ہو کر اسے جواب دینا۔اپنے علم اور عقل پر بھروسہ نہ کرنا۔ہر وقت خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنا۔تلاوت قرآن پاک با قاعدہ کرنا۔ہر ایک کو دوست بنانے کی کوشش کرنا۔خوش اخلاقی کو اپنا شعار بنانا تجد پڑھنے کی کوشش کرنا۔مخالف کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ملکانونکی اچھی طرح سے تربیت کرنا اور دین حق کا پابند کرنے کی کوشش کرنا۔دین حق کی انہیں خوبیاں بتاتے رہنا اور خود بھی کتب کا مطالعہ کرتے رہنا۔سب سے۔ی خندہ پیشانی سے پیش آنا اور دل و جان سے سب کا ہمدرد بننا۔جاؤ خدا تعالی حافظ و ناصر رہے۔آمین ثم آمین" میں بیدار ہو کر دوبارہ بیت پہنچا۔لوگ بھی بصد شوق آئے ہوئے تھے اور مختلف قسم کی باتوں میں مصروف تھے کوئی کہتا کہ مولبی کا بہت مجہ آیو ، ٹھاکر سر کو بھی کوئی آیسو مولبی نہ ملو تھو۔کوئی کہتا کہ " ہم جو جانت رہے کہ جوہ مولبی سیندھو سادھو معلوم ہوت ہے پر رات کو تو جب کر دیو تھو" غرضیکہ قسم قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔رات والی بڑھیا پہنچ گئی اور کہنے لگی کہ مولوی بیٹا اللہ آپ کو بہت