میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 59
47 کا کام ہے وہ خود ہی ہماری حفاظت کرے گا۔آپ بالکل فکر نہ کریں اور ہر نماز میں دوسری دعاؤں کے ساتھ دین حق کی فتح کی دعا بھی کرنا شروع کر دیں۔قادیان سے ۱۲ مارچ ۱۹۲۳ء کو پہلا وفد برائے سروے حضور نے روانہ فرمایا۔حضور اور دیگر احباب کثرت سے ڈلہ کے موڑ تک وفد کو روانہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔وہاں ایک کنویں کے نزدیک تمام احباب اکٹھے ہو گئے۔حضور نے مختلف نصیحتیں کرنے کے بعد ایک لمبی دعا کروا کر وفد کو روانہ کیا اور اس وقتہ تک وہیں کھڑے رہے جب تک وفد کے احباب جاتے ہوئے دکھائی دیتے رہے۔جب یہ وفد آنکھوں سے اوجھل ہوا تو حضور نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ہم بھی آپ کے ہمراہ واپس آگئے۔اس وقت میرے دل میں بہت جوش اٹھا کہ کاش میں بھی اس جانے والے وفد کے ہمراہ ہو تا۔واپس قادیان اگر غمگین دل کے ساتھ دوبارہ کام شروع کر دیا۔بالاخر ۲۴ ، مارچ ۱۹۲۳ء کو دوسرا وفد جانے کی افواہ سنی۔بڑی خوشی ہوئی کہ اب میرا نام بھی اس وفد میں ضرور آجائے گا۔میں نے فہرست میں اپنے نام کی تسلی کرنے کے لئے کوشش کی تو جواب ملا کہ آپ تسلی سے اپنا کام جاری رکھیں۔جب آپ کا نام آئے گا تو روانگی سے ایک دن قبل آپ کو اطلاع کر دی جائے گی۔۲۳ مارچ کا دن بھی آگیا مگر شام تک مجھے کوئی اطلاع نہ ملی اور اگلے دن صبح یہ اعلان ہو گیا کہ آج بعد دو پر دو سرا وفد روانہ ہو گا۔چنانچہ پہلے وفد کی روانگی کی طرح اب بھی ہم حضور کے ہمراہ اسی جگہ تک گئے اور نصائح کے بعد دعا کے ساتھ وفد کو روانہ کیا۔میرا نام وفد میں نہ آنے کی وجہ سے سخت اضطراب کی حالت میں رہا اور پھر تنگ آکر میں نے حضور کی خدمت میں ایک درخواست لکھی کہ اگر حضور نے مجھے تیسرے وفد میں بھی نہ بھیجا تو میں بیمار ہو جاؤں گا۔آخر اللہ تعالٰی نے میری التجا سن لی اور مجھے اطلاع ملی کہ کل مورخہ ۴/ اپریل ۱۹۲۳ء کو تیسرے وفد کے ہمراہ جانے کے لئے