میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 47
37 مجھے بھی دینا۔میں نے کہا صاحب دو پاؤنڈ دیں گے اور پھر گائے ذبح کرنے کا تحریری اجازت نامہ لے لیا مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی مگر میں نے اس کا اظہار نہ کیا دوسرے دن میں نماز سے فارغ ہو کر ابھی قرآن کریم پڑھ ہی رہا تھا کہ معززین کا وفد آگیا۔وہ کافی دیر بیٹھے رہے۔جب میں فارغ ہو گیا تو چار معززین کو میں نے الگ لے جا کر اپنی اسکیم سے مطلع کیا وہ یہ سن کر باغ باغ ہو گئے اور مجھے گلے لگاتے رہے۔پھر ہم سب ڈیرہ پر واپس آئے اور اسی وقت ساٹھ مسلمانوں سے گائے کے واسطے ساٹھ روپے اکٹھے کئے مگر عوام کو اس چیز کا بھید نہ دیا اور شام کو ایک اعلیٰ قسم کی گائے خرید کر اس کی خوراک کا انتظام کر کے جہاز میں بھیج دی۔عید سے ایک دن قبل سکھوں کو معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں نے گائے کی قربانی کرنا ہے۔سکھوں اور ہندوؤں میں شور بپا ہو گیا کہ اگر ایسا ہوا تو ہم گاؤ کے لئے جائیں دے دیں گے اور اگلے دن کام پر نہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔حالانکہ عید کی چھٹی صرف مسلمانوں کو تھی عید کی صبح ہوئی اور کارخانہ کا بگل بجا مگر کوئی سکھ یا ہندو کام پر نہ گیا۔جب اس کی خبر کیمپ کمانڈر کو ملی تو اس نے ان کے افسروں کو بلا کر حکم دیا کہ سب لوگوں کو کام پر حاضر کرو۔مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔صاحب نے فون کیا اور فوراً ہی ایک بریگیڈ گورکھوں کا مسلح دستہ حاضر ہو گیا سب سکھ اور ہندو رونے لگے کہ صاحب ہم گائے قربان نہیں ہونے دیں گے۔صاحب نے کہا کہ کسی قسم کی کوئی گڑیڑ نہیں ہوگی۔وہ سب یہ سن کر کام پر چلے گئے اور میں بھی عید پڑھانے مارگل نمبر ۲ چلا گیا مگر جلد ہی واپس آگیا۔کئی احمدی و غیر احمدی یہ نظارہ دیکھنے کو جمع ہو گئے صاحب بھی تشریف لے آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ میں آپ کو ایسا کرنے سے لوکوں گا اور سختی سے روکوں گا مگر تم نے جلدی سے اپنا کام کر لیتا ہے۔پھر میں ناراض ہو کر چلا جاؤں گا مگر آپ نے کوئی فکر نہیں کرنا۔ہمارے آدمی گائے لے