میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 43
33 صاحب بھی حیران ہوئے اور اپنے کہے ہوئے لفظ ”کافر کو واپس لیا اور آئندہ اتوار کو اپنے گھر میں آنے کی ہمیں دعوت دی اور سخت ندامت محسوس کی۔ہم اپنے وعدہ کے مطابق درزی صاحب کے مکان پر پہنچے۔تھوڑی دیر تبادلہ خیالات کے بعد ان کے مولوی صاحب کہنے لگے کہ آئندہ کسی اور وقت کا تعین کر لیں۔ہم پنجاب سے کتابیں منگوا کر بات کریں گے۔میں نے کہا سب سے پہلے عرب والوں پر یہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا۔اب ہم سب اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اس کی مدد سے آپس کے تنازعات کا فیصلہ کریں۔اگر آپ ایسا نہیں چاہتے تو پھر اس بات کا آپ اقرار کریں کہ قرآن مجید ہماری مدد نہیں کرتا یا پھر یہ کہیں کہ قرآن کریم ہمیں پڑھنا نہیں آتا۔وہ ایسے اقرار سے گریزاں رہا مگر میں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑتا تھا۔آخر کار مولوی صاحب وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور درزی صاحب نے ہمیں سوڈا واٹر بوتلیں پلائیں اور ساتھ ہی معذرت بھی کی کہ ہمارے پاس کوئی مولوی نہیں ہے جس سے آپ تبادلہ خیالات کر سکیں۔ایک مرتبہ غیر احمدیوں نے فیصلہ کیا کہ کسی عرب ایک عرب مولوی کا واقعہ مولوی کو میرے مقابلہ پر لائیں اور اس طرح مجھے شرمندہ کریں چنانچہ ایک اتوار کو بمبئی کے رہنے والے ایک مولوی کو بیس روپے پر رضامند کر کے کیمپ میں لے آئے اور اسے پانچ روپے بطور بیعانہ کے بھی دے دیئے۔بعدہ اسے وہاں بٹھا کر اور مجھے ایک ضروری کام کا جھانسہ دے کر وہاں لے گئے۔میں نے جاتے ہی السلام علیکم کہا اور بیٹھ گیا۔عرب مولوی صاحب بولے کیف حالک میں نے جواب دیا الحمد لله على كل حال اعوذ بالله من كل اهل النار میرے جواب پر وہاں بیٹھے ہوئے پنجابی چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ ہمیں تو دونوں میں سے کسی کی بات بھی سمجھ میں نہیں آئی۔میں نے کہا تو پھر اس جگہ تو