میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 42
32 پھر اس کافر کے ساتھ میرا کلام سنتا۔میرا ایک شاگرد غصہ سے اسے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ میں نے اسے روک دیا اور درزی سے کہا کہ اگر آپ نے تبادلہ خیالات کرنا ہے تو کسی مولوی کو لے آنا ہم پھر اس سے ملا دیں گے۔کیونکہ وہ تو بڑا خوش اخلاق اور لوگ اس کی یہاں بڑی عزت کرتے ہیں۔آپ نے تو فورا" اسے کافر کہہ دیا ہے۔یہ طرز کلام پسندیدہ نہیں ہے۔درزی مولوی کہنے لگا آپ ذرا مجھے اس سے ملا ئیں تو پھر دیکھنا کیسا میں اس کا ناطقہ بند کرتا ہوں۔میں نے کہا اس نے تو بہت بخشیں کی ہیں کبھی کسی کو برا لفظ نہیں کہا اور ویسے بھی بڑی تہذیب سے بات کرتا ہے۔اگر آپ بھی اس سے شائستہ گفتگو کی ضمانت دیں تو ہم اسے آپ سے ملا سکتے ہیں۔پہلی بات تو وہ یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی موت میں اسلام کی حیات ہے اور دوسرا یہ کہ حضرت محمد ہی صرف زنده نبی ہیں جنہوں نے زندہ خدا کو پیش کیا ہے۔وہاں مستری محمد فاضل صاحب کو ٹلی لوہاراں کے بھی بیٹھے ہوئے تھے۔اور بہت تجربہ کار آدمی تھے۔درزی کے پاس جا کر پوچھنے لگے کہ کیا آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا ہوا ہے؟ درزی صاحب بولے میں نے کچھ پڑھا ہوا ہے۔مستری صاحب بولے جناب میں آپ سے کچھ پڑھا ہوا نہیں پوچھ رہا۔سارا پڑھا ہوا ہے کہ نہیں؟ درزی صاحب بولے تم کون ہو جو میرا امتحان لے رہے ہو۔مستری صاحب! "جناب عالی میں نے آپ کی بے علمی کا امتحان لینا تھا جو لے لیا ہے " درزی صاحب بولے وہ کیسے؟ مستری صاحب کہنے لگے کہ ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور اتنی باتیں بھی ہوئیں اور ابھی تک جاہل ہی رہے کہ مرزائی کہاں ہے۔یہی تو وہ احمدی مولوی ہیں۔اگر کوئی دوسرا مولوی ہو تا تو جب آپ نے کافر کا لفظ کہا تھا تھپڑ مار کر آپ کا منه سرخ کر دیتا۔یہ حوصلہ صرف احمدیوں کا ہی ہے۔اب آپ شرم کریں اور اگر کوئی بات کروانا ہی ہے تو کسی مولوی کو لے آؤ اور آرام سے بیٹھ کر کرو۔درزی