میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 33 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 33

27 رکھی ہوئی ہے مولوی معلوم ہوتے ہیں اس لئے صرف یہ بتا دیں کہ آپ بیت میں نماز با جماعت کیوں نہیں لوا کرتے۔میں نے آج خاموش رہنا مناسب نہ سمجھا اور ان پر ظاہر کر دیا کہ میں احمدی ہوں اور میری نماز ان لوگوں کے پیچھے نہیں ہوتی اس لئے میں الگ اپنے ڈیرے پر ہی پڑھ لیتا ہوں مگر آپ یہ بتائیں کہ نہ آپ بیت میں اور نہ ڈیرے پر کہیں بھی نہیں پڑھتے۔آپ کو میری نماز کا کیوں فکر ہے۔وہ لاجواب ہو کر خاموش ہو گئے مگر خفیہ طور پر لوگوں میں میرے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا اور میرے ساتھ بات چیت بند کر دی اور اپنے طور پر آپس میں مجھے نانے کے لئے حضرت صاحب پر قسم قسم کے اعتراض کرتے مگر میرا جواب نہ سنتے۔میں بھی انہیں سنا سنا کر اپنی عقل کے مطابق جواب دیتا رہتا۔ایک دن مجھے سخت گھبراہٹ ہوئی، اس خیال سے کہ مومن تو کبھی اکیلا نہیں رہتا جب کہ میں اکیلا ہوں مجھے اپنی فکر کرنی چاہئے۔کیا میں مومنوں میں شامل نہیں ہوں؟ دل میں بڑا جوش اٹھا۔میں دریا کے کنارے چلا گیا اور دعا کرنے لگ گیا کہ اے میرے مولا کریم اگر میں مومن نہیں ہوں تو اپنے زور سے تو بن نہیں سکتا۔مجھے مومن بنانا بھی تیرا ہی کام ہے۔میری تو تیرے ہی دربار میں التجا ہے کہ میری نصرت فرما۔غرضیکہ دعا مطمئن ہونے کے بعد واپس اپنے ڈیرے پر آگیا۔اس سے اگلے دن نصف شب کے قریب ایک بڑا شریف اور نمازی آدمی (احمد دین) میرے پاس آیا جو ضلع راولپنڈی کا رہنے والا تھا۔وہ کہنے لگا مولوی صاحب میری بیعت لے لیں۔میں بڑا حیران ہوا کہ یہ شخص کون ہے جو نصف شب کے قریب مجھے جگا کر یہ الفاظ کہہ رہا ہے۔میں نے موم بتی جلائی اور بڑی محبت سے اپنے پاس بٹھا کر پوچھا کہ اب بتا ئیں کہ کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ میں بعد نماز عشاء درود شریف پڑھتے پڑھتے سو گیا کیا دیکھتا ہوں کہ دو بزرگ میرے پاس آئے ہیں۔ایک بزرگ نے میرے