میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 27 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 27

21 رہے۔بیعت کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نماز جنازہ پڑھائی اس میں مولوی محمد علی صاحب کے حامیوں کے چند نفوس پر مشتمل ایک گردہ اور بہت سے غیر احمدی احباب بھی باقاعدہ شامل ہوئے۔مغرب سے قبل حضرت اقدس مسیح موعود کے پہلو میں آپ کو دفن کیا گیا۔اور تمام احباب واپس آگئے۔وہ وقت بھی خوشی اور غم کے ملے جلے احساس کے ساتھ ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہا تھا جو کہ بیان سے باہر ہے۔یعنی ایک طرف تو وفات کا غم اور دوسری طرف نئے خلیفہ کی خوشی۔آخر مغرب کی اذان ہوئی اور روزہ افطار کیا گیا۔رات گھروں میں بھی یہی تذکرہ جاری رہا جب دوبارہ بیت اقصیٰ میں اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جہاں حضرت خلیفہ اول کھڑے ہو کر درس دیا کرتے تھے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے قرآن کریم کھولا تو پہلے وہی الفاظ فرمائے جو میری خواب میں تھے کہ دوستو اس جگہ تک حضرت خلیفہ لول نے درس دیا تھا۔اب میں اس سے آگے شروع کرتا ہوں اور پھر درس دینا شروع کر دیا۔میرا ایمان تازہ ہو گیا اب میرا خواب لفظ بلفظ پورا ہو گیا تھا۔الحمد للہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول اپنی زندگی کا آخری درس دے رہے تھے جس میں آپ حضرت خلیفہ اول کے لئے دعا نے فرمایا کہ حضرت مرزا صاحب کی بیوی تو مومنوں کی ماں ہیں مگر میری بیوی اگر میرے بعد چاہے تو اپنا عقد کر سکتی ہے۔ان الفاظ کو منہ سے نکالتے ہوئے حضور کی آنکھیں پر نم تھیں۔اس بات کا میرے دل پر بہت زیادہ اثر ہوا اور سارا دن پریشانی میں گزرا۔اس دن مغرب کی نماز بیت اقصیٰ میں سید سرور شاہ صاحب نے پڑھائی۔میرے والد صاحب بھی اس نماز میں شامل تھے لیکن وہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد گھر تشریف لے گئے اور مجھے سنتوں کی ادائیگی کے دوران حضرت خلیفہ اول کے پیارے درس کا خیال آیا اور میرے دل میں آپ کے لئے دعا کے واسطے تحریک