میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 248
236 دکھانے لگا۔دراصل وہ ایک شارک (گٹار مالی) کا بچہ (بوٹ) جو سرخ رنگ کا تھا جس کے جسم پر کوئی بال بھی نہ تھا میز پر لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا۔یہ حیات مسیح کے ثبوت میں پیش کیا جا رہا تھا۔جب میں نے یہ اعتراض دیکھا تو کہا کہ یہ خدا کی قدرت نہیں ہے۔مولوی کھورہ صاحب کی کرتوت ہے کہ اپنی وضع قطع کا بچہ ایک مرغی سے ایک ہی رات میں پیدا کر دیا ان مولوی صاحب کے جسم پر بھی کوئی بال نہ تھا۔نہ سر پر بال نہ بھنویں نہ پلکیں، نہ مونچھیں اور نہ داڑھی اور رنگ بھی سرخ تھا۔میرا جواب سن کر لوگ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔نوٹ:۔صفحہ ۱۵۵ پر ”مولوی عبد القادر اور مولوی اسماعیل روپڑی سے مناظرہ کی میڈ نگ کے تحت دیئے گئے واقعہ سے پہلے کوٹلی پہنچنے کا یہ واقعہ درج ہونے سے رہ گیا تھا۔اب یہاں درج کر رہا ہوں۔تقریباً ۱۹۴۶ء مولوی عبد القادر اور کو ٹلی ضلع میرپور کی جانب روانگی مولوی اسماعیل روپڑی اہل حدیث ضلع میرپور پہنچے اور وہاں ہمارے خلاف تقریر کی اور بڑی تحدی سے کہا کہ مرزائی مجھے دیکھ کر ہی گھبرا جاتے ہیں۔وہاں کے احمدی دوستوں نے یہ چیلنج منظور کیا اور فوراً ایک احمدی میاں محمد بخش کو میرے پاس بھیج دیا۔وہ راتوں رات چالیس میل کا پیدل پہاڑی سفر طے کر کے فجر کی نماز کے وقت میرے پاس پہنچ گیا اور سب واقعہ کہہ سنایا اور بتایا کہ کل نو بجے مناظرہ ہے سر دست ایک ہی گھوڑا مل سکا۔وہ شخص بھی چالیس میل کا پیدل سفر کر کے تھکا ہوا تھا۔میں نے اسے گھوڑے پر بٹھا دیا اور خود پیدل چل پڑا۔پھر راستے میں ہم باری باری گھوڑے پر سواری کرتے رہے۔کوٹلی سے چھ میل دور سورج غروب ہو گیا۔اندھیری رات تھی۔راستے میں پانی کی ایک باولی آگئی۔وضو کر کے وہاں نماز پڑھی اور دوبارہ چل پڑے۔ابھی چار میل کا سفر باقی تھا کہ ایک