میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 245 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 245

233 صاحب کو بلایا ہوا تھا سوچنے لگے کہ ۲۰۰ روپے ضائع ہو گئے ہیں اور جھنجلا کر مجھے مناظرے کا چیلنج دے دیا۔میں نے اسی وقت چیلنج منظور کر لیا۔وہاں کے نمبردار رحیم خان نے مجھ سے پوچھا کہ آپ خود مناظرہ کریں گے یا اپنے کسی اور مولوی کو بلوائیں گے۔میں نے کہا کہ میں خود ہی مناظرہ کروں گا۔اتنی دیر میں ٹائیں، سونا گلی ہوئی، چر نالی اور دھنہ وغیرہ سے سو سوا سو کے قریب احمدی احباب آگئے۔جب انکی قطار پہاڑ پر سے اترتی ہوئی خطر آئی تو مولوی عنایت اللہ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون آرہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ سب احمدی ہیں۔مولوی صاحب گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ یہ علاقہ تو مرزائی لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔جب تک پولیس کا انتظام نہ ہو مناظرہ نہیں ہو سکتا۔میں نے کہا مولوی صاحب تحریر ا ذمہ داری لیں۔بڑے امن سے مناظرہ ہو جائیگا۔مگر مولوی صاحب نہ مانے اور پولیس کے بغیر کسی صورت بھی مناظرے پر راضی نہ ہوئے۔نمبردار صاحب بولے کہ میں اپنے لوگوں کی ذمہ داری نہیں لے سکتاکہ آپکی جماعت تو منتظم ہے مگر ہم غیر منظم ہیں لہذا آپکی طرح میں ذمہ داری نہیں لے سکتا۔چنانچہ مولوی صاحب بغیر مناظرے کے گجرات چلے گئے۔لوگ ہمیں گالیاں دینے لگے کہ ہمارے مولوی کی ہتک کر کے اسے بھگا دیا ہے۔حالانکہ مولوی صاحب مجھ سے مصافحہ کر کے گئے تھے انکی گالیوں کے جواب میں ہم نے صرف اتنا ہی کہا کہ ان گالیوں کا بدلہ ہمارا خدا لے گا۔نماز استسقاء کی قبولیت خدا کی قدرت که دره شیر خان کے دو میل کے ایریا میں جہاں انکا گاؤں تھا دو سال تک بالکل بارش نہ ہوئی۔نہ اناج پیدا ہوا اور نہ چوپائیوں کیلئے چارہ۔گھروں کے اناج بھی ختم ہو گئے اور فاقوں تک نوبت پہنچ گئی۔ارد گرد کے سب علاقوں میں بارش اور سبز چارہ اور اناج خوب پیدا ہو تا رہا۔تقریباً دو سال کے بعد اپنے دورے کے دوران میں سونا گلی