میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 244
232 ایک جلسہ کیا تھا اور بیعت بھی ہوئی تھی۔وہاں کے ملاں بہت سیخ پا ہوئے کہ اگر یہ جلے اسی طرح جاری رہے تو سب مرزائی ہو جائیں گے۔انہوں نے ایک میٹنگ کی اور فیصلہ کیا کہ کسی بڑے مولوی کو پنجاب سے بلوایا جائے۔غرضیکہ انہوں نے مولوی عنایت اللہ شاہ بخاری کو گجرات سے ۲۰۰ روپے دینا طے کر کے بلوایا۔مولوی صاحب نے وہاں پہنچ کر رات کو تقریر میں ہمارے خلاف بہت زہر اگلا۔ہمارے وہاں کے احمدیوں نے راتوں رات میرے پاس ایک آدمی بھیجا اور حالات سے مطلع کیا۔میں اگلے ہی دن صبح کی لاری پر سوار ہو کر درہ شیر خان پہنچا۔ابھی میں تھیں چالیس قدم پر ہی تھا کہ مولوی صاحب کی تقریر سنائی دی وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی مرزائی آپکے پاس آتا ہے تو کہتا ہے کہ مرزا صاحب مہدی تھے، کوئی کہتا ہے کہ مجدد تھے تو کوئی کہتا ہے کہ وہ امتی بنی تھے۔میں آپکو مرزا صاحب کی ایک کتاب دکھاتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں کہ میں خدا کا صور ہوں۔لوگوں نے اس لفظ کو سین" والا سئور سمجھا اور مولوی صاحب دھوکا دے گئے۔پھر کہنے لگے کہ ہم مرزا صاحب کا اعتبار کریں یا انکے مریدوں کا؟ میں فورا انکے جلسے میں چلا گیا۔میں اور گجراتی صاحب ایک دوسرے سے واقف تھے۔میں نے کہا آپ اپنی قوم کی طرف دھیان کریں۔اپنے چہرے اپنے بوٹوں اور اپنی اچکن پر دھیان دیں اور پھر ان کے مقابل پر اپنی اس شرارت پر غور کریں۔کیا یہ آپکو زیب دیتی ہے؟ جو " اللہ کی عنایت" سے پیدا ہو اتنا بڑا جھوٹ بول سکتا ہے۔اس لفظ سے آگے بھی کچھ پڑھ لیتے۔آگے لکھا ہے کہ سب نبی خدا کے صور ہوتے ہیں اور پبلک کو بھی یہ بتایا کہ وہ سئور نہیں جو آپکی مکئی اور گنے کی فصلیں تباہ کرتے ہیں بلکہ وہ صور ہیں جن کے بارے میں قرآن میں ذکر ہے کہ نفخ في الصور کہ قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا۔اس طرح سب پر حقیقت واضح ہو گئی۔بعض لوگوں پر مولوی صاحب کا بہت برا اثر پڑا۔اور وہ جنہوں نے مولوی