میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 243
231 کرنے کی کوشش کرتے رہے۔تین تھانوں سے تھانیدار اور سپاہی ہتھکڑیوں کے ایک انبار سمیت پہنچے ہوئے تھے۔اور تحصیل دار صاحب اور جج صاحب بھی تشریف لے آئے۔مولوی عبد الغفور صاحب اور مولوی محمد یار صاحب قادیان سے میرے پاس پہنچ گئے تھے۔انکی بھی تصاویر ہو ئیں۔مولویوں کی سخت مخالفت کے باوجود جلسه نهایت خیرو خوبی سے ہوتا رہا کیونکہ جج صاحب نے جو ہندو تھا کھڑے ہو کر اعلان کر دیا تھا کہ اس جلسہ میں اسلام کی خوبیاں بیان کی جارہی ہیں اور کسی مذہب پر حملہ نہیں ہو رہا اسیلئے ایسے جلسہ میں اگر کوئی گڑ بڑ پیدا کریگا تو ہم اس کو گرفتار کرنے کے لیے مجبور ہونگے۔اس وقت مولوی صاحبان چلے گئے مگر پبلک میں سے کوئی نہیں گیا۔ہمارا جلسہ دو دن بڑی کامیابی سے دعا پر ختم ہوا۔مندرجہ ذیل جماعتوں سے احمدی احباب بھی آئے ہوئے تھے۔انبالہ شہر کاٹھ گڑھ ، سرہند خانپور پر اور چک لوہٹ گھر ڈگریام ،اچھی واڑہ راجپورہ، وغیرہ کا ٹھگڑھ سے مولوی عبد السلام صاحب اور مولوی عبد المنان صاحب دیگیں اور برتن ایک گاڑی پر لاد کر لائے تھے۔چونکہ غیر از جماعت ہمارے جلسہ میں کافی شامل ہوتے تھے اور ہماری طرف سے یہ بار بار اعلان ہو تا تھا کہ جو صاحب بھی جلسہ سننے کیلئے آئے ہوئے ہیں انکے کھانے کا انتظام ہمارے ہاں موجود ہے۔اسلئے سب لوگ ہمارے ہاں ہی دو دن کھانا کھاتے رہے۔سب سامان وغیرہ بوٹا کر چوتھے دن میں قادیان پہنچا اور والد صاحب کی قبر پر جا کر دعا کی۔مولوی عنایت اللہ شاہ بخاری گجراتی کا لفظ "صور" سے دھوکا دینا ۱۹۴۵ء میں مولوی صاحب کے جانے سے چند دن پہلے میں نے درہ شیر خان میں