میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 241
2,29 کیا کہ پادری صاحب یہ مناظرہ لمبا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔صرف میرے سوال کا آپ جواب دے دیں۔آپ نے بتایا ہے کہ آدم کی اولاد میں ورثہ میں گناہ آیا ہے۔جو بھی آدم کی اولاد میں ہے وہ گناہ گار ہے۔اب بائبل کی رو سے ہم نے فیصلہ کرتا ہے۔مسیح نے خود فرمایا ہے کہ آدمی کو گناہ کیوجہ سے یہ سزا ملی کہ وہ پینے کی کمائی سے روٹی کما کر کھائیگا اور اسکی بیوی حوا کو پر سزا ملی کہ تو درد زہ سے بچہ بنے گی اب آپ یہ فرماتے ہیں کہ مسیح نے سب گناہ اٹھا لیے مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ بات صحیح نہیں کیونکہ عیسائی عورتیں بچہ جننے سے پہلے اسی طرح دردِ زہ میں مبتلا ہوتی ہیں اور جتنے عیسائی جھاڑو بردار ہیں ان سب کو سر سے پاؤں تک پسینہ آیا ہوا ہوتا ہے جس سے صاف ثابت ہے کہ مسیح کسی کا کفارہ نہیں ہو سکے۔اگر آپکوشک ہو تو اپنی بیویوں سے پوچھ لیں کہ بچہ جننے سے پہلے درد زہ ہوتی ہے یا نہیں۔پادری صاحب اسکے جواب کیلئے نہ اٹھے اور کہنے لگے کہ ہمارے مناظر پادری صاحب ہی نہیں آئے اس لیے ہم مناظرہ ملتوی کرتے ہیں گویا چند منٹوں میں یہ مناظرہ ختم ہو گیا غیر از جماعت کافی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔وہ بہت خوش ہوئے کہ ایک ہی سوال سے فریق ثانی کو خاموش کر دیا اور مجھے آکر مبارکباد دیتے رہے اور کہتے رہے کہ آپ نے ہمارے ہاتھ میں ان کو خاموش کرانے کیلئے ایک بڑا ہتھیار دے دیا ہے۔ماہ جون ۲۸ء میں میری والدہ کا جنازہ حضرت المصلح الموعود نے پڑھایا میں ابھی یو پی ہی میں تھا ( مکانہ تحریک کے تحت) تو قادیان سے چٹھی آگئی کہ آپکی والدہ سخت بیمار ہیں۔آپ کو ان کی عیادت کے لئے آنے کی اجازت ہے۔میری بیوی بھی چونکہ میرے ساتھ ہی تھی۔میں اسکو ہمراہ لے کر چوتھے دن قادیان پہنچا تو معلوم ہوا کہ دو دن