میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 227
215 ان نوجوانوں کو کوسنا شروع کر دیا کہ تم ان کی ایسی مجلس میں گئے کیوں تھے۔جس پر وہاں کے نوجوانوں نے ایک کمیٹی بنائی جس کا نام آزاد نوجوان رکھا۔اس کمیٹی کے ممبران ہمارے احمدی نوجوانوں سے مل کر کہنے لگے کہ شہر والوں نے تو تمہارا مکمل بائیکاٹ کیا ہوا ہے مگر اب آریہ انعام رکھ کر چیلنج دے رہے ہیں کہ اگر کوئی مولوی ان کے اعتراضوں کے جواب دے دے تو وہ انہیں پچاس روپے انعام دیں گے اس لئے آپ اپنے مرکز سے کسی احمدی مبلغ کو بلواؤ۔ہمارے احمدی نوجوان کہنے لگے کہ ہمارے ایک احمدی مبلغ کشتواڑ آئے ہوئے ہیں اور ہم نے اس لئے یہاں نہیں بلوائے کیونکہ یہاں کے حالات خراب ہیں اور اگر کسی نے ہماری بات کو نہ سنا تو مغز کھپائی" کا کیا فائدہ ہو گا۔انہوں نے اصرار کیا کہ آپ ضرور بلوائیں ہم سب نوجوان ان کی باتیں شوق سے سنیں گے۔چنانچہ وہاں کے نوجوانوں نے مجھے تار دے دی۔میں تار ملتے ہی وہاں سے روانہ ہو گیا اور ڈیڑھ دن میں چالیس میل پیدل پہاڑی سفر طے کر کے بھدرواہ پہنچا۔چونکہ ہمارے وہاں کے احمدی نوجوانوں نے ان کے اعتراض نوٹ کئے ہوئے تھے ان پر نظر دوڑائی۔وہ میرے لئے خدا تعالی کے فضل سے نہایت معمولی اعتراض تھے۔صرف لفظ " اللہ " پر انہوں نے تمسخر اڑایا ہوا تھا کہ یہ موہوم لفظ ہے جس کے کوئی معنے نہیں ہیں۔اگر کوئی لغت میں سے ان کے معنی بتا دے تو وہ پچاس روپے نقد انعام حاصل کر سکتا ہے۔اس بات کا مسلمانوں پر بہت برا اثر تھا۔میں نے وہاں کے غیر احمدی نوجوانوں کو بلوایا اور ان سے کہا کہ کل پہلا روزہ ہے۔اگر آپ آریوں کے اعتراضوں کے تسلی بخش جواب سنتا چاہتے ہیں تو خود شہر میں منادی کرو تاکہ لوگ کثرت سے شامل ہوں اور جلسہ با رونق ہو جائے۔انہوں نے میری تجویز کو منظور کرتے ہوئے صبح اور دوپہر دو وقت شہر میں جلسہ کی منادی کر دی۔