میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 218
206 اسی وقت ایک روپیہ دے کر رسید لکھوالی اور سامان وغیرہ لیکر اوپر چلا گیا۔ایک چارپائی اور بالٹی اس سنار سے مستعار لے لی اور ایک مٹی کا لوٹا اور ٹین کا ڈبہ بازار سے لے آیا۔لوٹے میں پانی بھر کر رکھ لیا اور تالا لگا کر شہر کا چکر لگانے چلا گیا۔وہاں اتنی سخت مخالفت تھی کہ مولوی عبد الواحد صاحب سناتے تھے کہ میں وہاں ڈیڑھ سال کا عرصہ گزار کر آیا ہوں مجھ سے ان کا اتنا سخت بائیکاٹ تھا کہ سلام و کلام بند ہو گئے تھے اور انجمن نے واپس بلا لیا تھا۔اب آپ کو وہاں بھیجا جا رہا ہے۔آپ وہاں جا کر عبد الرزاق کو جامیں وہ اچھا آدمی ہے۔اب اس اچھے آدمی نے غیروں کو اطلاع کر دی کہ ایک قادیانی آگیا ہے اور سب دوکانداروں سے کہہ دیا کہ جو کوئی اسے روٹی دے گا اس کی دوکان سے اور کوئی روٹی نہیں کھائے گا۔غرضیکہ کوئی بھی میرے ساتھ کلام نہ کرے اور میری نشانی سبز صافہ شہر میں مشہور ہو گئی۔میں نے بوٹ سے ایک سیر شکر پارے خریدے ہوئے تھے۔ان سے ہی تین دن گزارے۔آج چوتھا دن تھا۔عبد العزیز خطیب جو میری مخالفت میں اول نمبر پر تھا درزی کا کام کرتا تھا۔اس کے سامنے ایک نوجوان کی کپڑے کی دوکان تھی۔میں وہاں گیا اور اس سے کہا کہ مجھے ایک قمیض کا کپڑا چاہئے۔اس نے مجھے دو تین قسم کے کپڑے دکھائے۔میں نے ان کا بھاؤ پوچھا۔اس نے بتایا۔میں نے کہا کہ ہمارے قادیان میں تو اس کا بھاؤ یہ تھا۔آپ زیادہ قیمت لگا رہے ہیں۔مگر خیر آخر گھر میں ہی پیسے رہیں گے ایک مسلمان بھائی کچھ زیادہ بھی لے لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔اس پر میری بات کا بہت اچھا اثر ہوا اور کہنے لگا مولوی صاحب آپ قادیانی کیوں ہو گئے ہیں۔آپ تو بڑے نیک دل آدمی معلوم ہوتے ہیں۔میں نے کہا کہ بھائی صاحب کیا بتاؤں ادھر جو بھی ہوتے ہیں بڑے نیک دل ہی ہوتے ہیں۔ہر انسان اپنے ذوق کے مطابق تلاش کرتا ہے۔آج مسلمانوں کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے نہ نیکی ہے نہ پیار ہے