میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 209
197 اچھا اثر ہوا۔اس کے بعد ہم نے تین سال متواتر راجوری میں جلسے کئے۔پھر کوئی روک پیدا نہ ہوئی۔راجوری میں ہمارے خلاف بھی بہت سے جلسے کئے گئے جن کے مکمل جوابات دیئے گئے مگر راجوری میں میرے مناظرے کا چیلنج کسی نے قبول نہ کیا۔کئی مرتبہ چیلنج دیا کہ ہم ہر وقت تبادلہ خیالات کے لئے تیار ہیں مگر وہ لوگ ٹی سے مس نہ ہوئے۔احمدیت کے مداح تو بہت پیدا ہو گئے مگر احمد ی نہ ہو سکے۔جب ہمارا را جوری شہر میں پہلا تبلیغی جلسہ بہت میں میل پیدل پہاڑی سفر اثر ہوا تو وہاں کے غیر احمدی صاحبان نے پنجاب سے مولوی محمد حیات صاحب عرف کھورہ و دیگر تین مولوی بلوا کر احمدیت کے خلاف لوگوں میں بہت زہر پھیلا دیا تھا۔میں اسی وقت چند احباب کو ساتھ لیکر چل پڑا اور ہمیں میل پہاڑی سفر پیدل ہی چل کر ان کے راجوری والے جلسے میں شامل ہو گیا۔اس وقت مولوی محمد حیات صاحب تقریر کر رہے تھے کہ مرزا صاحب نے اہل بیت کی سخت توہین کی ہے " مرزا کہتا ہے کہ فاطمہ کے پٹ پر میں نے سر رکھ ؟ دیا اس وقت تحصیل دار صاحب خود جلسہ کی صدارت کے فرائض ادا کر رہے تھے۔اور وہ کٹر شیعہ تھے۔میں نے کھڑے ہو کر صدر صاحب سے اجازت طلب کی کہ مجھے چند منٹ دیئے جائیں تاکہ میں حقیقت کا اظہار کر سکوں تو صدر صاحب تلخ لہجہ میں کہنے لگے کہ آپ خاموش رہیں۔میں نے کہا تحصیل دار صاحب آپ قانون شکنی کر رہے ہیں۔آپ آن ڈیوٹی ہوتے ہوئے کسی مذہب کے جلسہ کی صدارت نہیں کر سکتے۔جب میری اور آپ کی حج صاحب کی عدالت میں پیشی ہو گی تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ قانون شکنی کر رہے ہیں یا نہیں۔دوسرے آپ کے سامنے مولوی محمد حیات صاحب ہر قسم کی غلط بیانیاں کر رہے ہیں اور پالک کو ہمارے خلاف اشتعال دلا رہے ہیں۔اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔