میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 208
196 جماعت میں داخل ہو جاتے ہیں مگر جلسہ کسی جگہ روکا نہیں جاتا جب کہ قانون تو ہر جگہ ایک ہی ہے۔جب ہندوستان میں حضرت معین الدین چشتی تشریف لائے ہیں۔اس وقت ہندوستان میں کوئی مسلمان نہ تھا۔اگر اس وقت ہندو بھائی ان مسلمانوں کی طرح سوال اٹھاتے تو اسلام کس طرح پھیل سکتا تھا۔یہ بھی جلسہ روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی (۳) تیسرا سوال یہ کہ انکی یہاں کوئی جگہ نہیں ہے تو صاحب والا آپ کے جو مولوی پنجاب سے اگر اس جگہ جلسہ کرتے ہیں ان کی کونسی یہاں جگہ ہوتی ہے۔میرے دوستو کتوں گھوڑوں اور اونٹوں کو تو یہاں پیشاب اور لید کرنے کی جگہ مل جائے مگر ہمیں جگہ نہ ملے۔حج صاحب بولے مولوی صاحب اب جانے دیں ان کو اور مجھے بتائیں کہ آپ جلسہ کس جگہ کرنا چاہتے ہیں۔ہم نے اور جج صاحب نے دو تین جگہیں دیکھیں مگر جگہیں صاف نہ تھیں۔بالا خرج صاحب کہنے لگے کہ آپ سرکاری باغ میں جلسہ کر لیں۔میں نے منظور کرتے ہوئے کہا کہ باغ پل سے پار ہے۔مخالفین پیکٹنگ نہ لگا دیں۔حج صاحب کہنے لگے کہ اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو میں انہیں جیل بھیج دوں گا اور ویسے یکصد آدمی گن کر مجھ سے لے لینا۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اگلے دن جلسہ کا اعلان کر دیا۔میں نے تھانیدار صاحب سے کہہ دیا کہ ہماری درخواست پر تاریخ بڑھالیں۔صبح حج صاحب کافی لوگوں کو ہمراہ لے کر آگئے۔سب سے پہلے میری دو گھنٹہ کی تقریر ہوئی۔بے شمار لوگ اکٹھے ہو گئے۔ہمارا اجلاس بارہ بجے تک ہوا اور پھر اعلان کر دیا گیا کہ کھانا اور نماز کے بعد جلسہ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔افسوس کہ مجھے شدید بخار ہو گیا اور میں دوبارہ تقریر نہ کر سکا۔جب تحصیل دار صاحب کو میرے بخار کا علم ہوا تو وہ میری عیادت کے لئے آئے۔دوسرے دن بعد دو پر ہمارا جلسہ بخیر و خوبی انجام پذیر ہوا ہمارے جلسے کا ہندوؤں اور مسلمانوں پر بہت