میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 207 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 207

195 یہ تو بات کرنے کا اصول نہیں ہے کہ سب شور شروع کر دیں آخر ہم بھی امن پسند رعلیا ہیں۔یہ اپنے کسی معتبر آدمی کو نمائندہ بنا ئیں اور اس کے علاوہ اور کوئی نہ بولے۔یہ عدالت ہے اور ان لوگوں نے چڑیا گھر بنایا ہوا ہے۔وہ معتبر نمائندہ جناب کی موجودگی میں ہم سے بات چیت کریں اور بتائیں کہ احمدیوں کا جلسہ کیوں نہیں ہو سکتا تاکہ ہم بھی اس پر غور کر سکیں اور جناب کو بھی ان کی معقولیت کا علم ہو جائے گا۔جج صاحب نے انہیں حکم دیا کہ سب باہر نکل جائیں اور اپنے میں سے ایک آدمی مقرر کر کے اندر بھیج دیں۔وہ سب نکل گئے تو جج صاحب کہنے لگے مولوی صاحب یہ سب لوگ گدھے ہی ہیں۔نہ تو یہ ادب آداب ہی جانتے ہیں اور نہ ہی تہذیب۔ان کی طرف سے دو آدمی منتخب ہو کر آگئے اور کہنے لگے کہ ہم چند وجوہات بیان کرنا چاہتے ہیں۔(1) احمدی اس لئے یہاں جلسہ نہیں کر سکتے کہ ہم ان کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔(۲) ان کا کوئی احمدی یہاں نہیں ہے۔(۳) ان کی کوئی جگہ یہاں نہیں ہے۔(۴) ہمارے اور ان کے عقائد میں اختلاف ہے۔(۵) یہ ہمیں کافر کہتے ہیں اور ہم انہیں کافر جانتے ہیں۔اس لئے ہمارے شہر میں ان کا جلسہ نہیں ہو سکتا۔بعد میں ان کے پانچوں سوالوں کے میں نے درج ذیل جوابات دیئے۔(1) اس شہر کے بعض مسلمان اور ہندو صاحبان نے ہمیں بار بار تاکید کی کہ ہمارے شہر میں جلسہ کریں ہم سنیں گے اور اگر کوئی نہیں سننا چاہتا تو ہم اسے مجبور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ ضرور سنے۔یہ تو اس کی مرضی ہے۔مذہبی آزادی ہے کوئی روک نہیں مگر ہمارا جلسہ کیوں رکے۔(۲) دوسرا یہ اعتراض کہ یہاں کوئی احمدی نہیں یہ بات بھی جلسہ میں روک نہیں ہو سکتی بلکہ اب تو جلسہ کرنا ضروری ہو گیا ہے تاکہ لوگ احمدیت کی صداقت معلوم کر سکیں۔آخر جموں کشمیر وغیرہ میں ہمارے جلسے ہوتے ہی رہتے ہیں اور لوگ تحقیقات کر کے اس پر امن