میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 206 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 206

194 بھی پہنچ گئے۔کارخانے میں دوسرے دن وہ ساتھی آکر ٹھہر گئے اور قریب ہی ان کو ایک سستا ہوٹل دکھا دیا۔چار دن سری نگر میں قیام کیا۔محلہ خانیار میں قبر مسیح اور شاہی مسجد دیکھی جس کے دیار کی لکڑی کے تین صد کے قریب اونچے اونچے ستون ہیں۔جماعت کے احباب سے ملاقات ہوئی۔چار دن قیام کرنے کے بعد دوبارہ اسی راستے سے ایک ہفتے کا پیدل سفر کر کے واپس بخریت پہنچ گئے۔حلقہ پونچھ کا دورہ کرنے کے دوران اس حلقہ راجوری شہر میں تبلیغی جلسہ کے سارے احمدی دوستوں کی یہ خواہش زور پکڑ گئی کہ راجوری شہر میں ہمارا تبلیغی جلسہ ہو۔چنانچہ جب ۱۹۳۸ء کے سالانہ جلسہ پر میں قادیان گیا تو وہاں سے مختلف عنادین کے تحت میں نے پانچ صد کی تعداد میں اشتہار چھپوا لئے یہ سارے اشتہار میں ہمراہ لے گیا اور راجوری شہر میں کامیاب جلسہ کرنے کی پوری کوشش شروع کر دی۔تھانہ میں بھی اطلاع کر دی کہ فلاں تاریخ کو را جوری شہر میں دو دن کے لئے ہمارا جلسہ ہو رہا ہے۔مقررہ تاریخ پر ہمارے دو مبلغ ناسٹور سے مولوی نعمت اللہ صاحب و مولوی عبد الغفار صاحب تشریف لے آئے۔تاریخ مقررہ پر جب ہم راجوری پہنچے تو شہر والوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ہم احمدیوں کا جلسہ ہر گز نہ ہونے دیں گے۔وہاں کے تھانیدار صاحب بہت گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ آپ جلسہ نہ کریں۔یہاں کے مسلمان بڑے جوش میں ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم خون کی ندیاں بہا دیں گے اور یہ کریں گے اور وہ کریں گے غرضیکہ فساد کا اندیشہ ہے اس لئے جلسہ بند کر دیں۔میں نے کہا جلسہ ضرور ہو گا ہم بند نہیں کریں گے۔تھانیدار صاحب کہنے لگے کہ میں معاملہ حج کے پاس پیش کئے دیتا ہوں آپ وہاں چلیں۔ہم سب جج کے پاس چلے گئے۔دوسری طرف سے بھی بڑی تعداد میں ہجوم اکٹھا ہو گیا اور شور مچانا شروع کر دیا۔میں نے جج صاحب سے کہا کہ