میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 205 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 205

193 خاموش ہو گیا۔ہم نے دل کھول کر تبلیغ کی۔بارش بھی بدستور جاری رہی۔صبح بغیر ناشتہ کے ہی چل پڑے کہ شوپیاں چل کر کھانا وغیرہ کھائیں گے اور پھر موٹر پر سوار ہو جائیں گے۔مگر ابھی نصف راستہ ہی چلے تھے کہ میرے ساتھی بیٹھ گئے کہ اب مزید نہیں چلا جاتا میں نے ایک درخت پر چڑھ کر دیکھا کہ ایک عورت دودھ کا ایک بڑا سا برتن لئے جاری ہے۔میں نے اسے آواز دی تو وہ آگئی۔پوچھنے پر جواب دیا کہ میرے پاس پانچ سیر دودھ ہے۔ہم نے چھ آنے میں سارا ہی خرید لیا۔اب مسئلہ اسے رکھنے کا تھا کیونکہ ہمارے پاس اتنا بڑا برتن بھی کوئی نہ تھا۔اس نے بتایا کہ پاس ہی ایک مائی کا مکان ہے ہم وہاں چلے گئے اور اس سے ایک نئی ہنڈیا لے کر دودھ گرم کیا اور سب دوستوں کو پلا دیا میں نے کہا کہ میں تو خالی پیٹ دودھ نہیں پی سکتا۔مجھے ہضم نہیں ہوتا۔وہ مائی میری باتیں سن رہی تھی وہ اندر سے میرے لئے ایک مکئی کی روٹی لے آئی اور مجھے دے دی۔میں نے اس کا تھوڑا سا ٹکڑا لے کر کھا لیا اور باقی بانٹ دی اور مائی کو دو آنے دے دیئے۔بعدہ چل کر شوپیاں پہنچے۔وہاں ایک احمدی درزی جو میرے بچپن کے واقف تھے مل گئے۔وہ چائے اور قلچے لے آئے۔ہم سب نے خوب کھائے۔اب سری نگر کا سفر صرف ہیں میل باقی رہ گیا تھا۔وہاں سے لاری بھی مل گئی لیکن اس میں صرف ایک آدمی کی گنجائش تھی۔میں نے دوستوں سے کہا کہ آپ کل سری نگر میں دفتر اصلاح پوچھ کر آجانا۔میں آج جا کر آپ کی رہائش وغیرہ کا انتظام کرتا ہوں۔سب کہنے لگے کہ ٹھیک ہے میں ظہر کے وقت سری نگر پہنچ گیا۔میں بھی پہلی مرتبہ سری نگر گیا تھا۔لوگوں سے پوچھ کر دفتر پہنچا۔دفتر میں مولوی عبد الواحد صاحب مبلغ مل گئے۔ان سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔وہ یہ سن کر بڑے حیران ہوئے کہ اتنا سفر پیدل طے کیا ہے۔نماز پڑھ کر ایک احمدی دوست کے کارخانہ میں ساتھیوں کی رہائش کا انتظام کیا۔دوسرے دن ساتھی