میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 197
185 آمده جلسه تک کیا دورہ جات کے دوران اپنا میڈ کوارٹر پونچھ ہی میں رکھا۔دوران ) سال کسی نے بھی مناظرے کی طرح نہ ڈالی صرف خاموش تبلیغ ہی ہوتی رہی۔پونچھ میں ایک فارسٹر نامی بواد ته محل آرید راد اس متصل ڈیرہ بابا نانک کا رہنے والا ملازم تھا۔میری جب بھی کسی آریہ ، مولوی یا پادری سے ملاقات ہوتی تو وہ بڑے شوق سے سنتا اور ساری باتیں بغور سننے کے بعد الگ مجلس قائم کر کے لوگوں کو بتاتا کہ اس احمدی مولوی کا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے یہ نیک بھی ہے خوش اخلاق بھی اور ہر مذہب کا واقف بھی۔اگر کوئی پنڈت ہو گا تو اپنے مذہب کا ہی واقف ہو گا۔اگر کوئی مولوی ہو گا تو وہ بھی صرف اپنے مذہب کا ہی واقف ہو گا۔اسی طرح پادری ہو سکھ ہو یا سناتی ہی کیوں نہ ہو سارے اپنے اپنے مذاہب سے بھی خوب واقف ہیں۔چونکہ بوادتہ مل آریہ تعلیم یافتہ اور ذی اثر تھا اس لئے جب بھی یہ ایسی باتیں کرتا تو خدا تعالیٰ احمدیت کا اور بھی رعب ان کے دلوں پر جما دیتا۔غرضیکہ سارا سال دورہ کرنے کے بعد جلسہ سالانہ کے موقع پر واپس قادیان آگیا۔میری تیسری شادی شریفاں بیگم سے میری تیسری شادی کی داستان عجیب ہے۔وہ سلواہ تحصیل منڈھیر ضلع پونچھ کی رہنے والی تھیں۔ان کے والد محمد عبد اللہ مرحوم ایک متمول زمیندار لیکن درویش منش انسان تھے۔لوگوں کو اور ان کے بچوں کو قرآن مجید پڑھانا۔زندگی کا اہم فریضہ بنالیا تھا۔ان کی ساڑھے چار صد کنال زرعی زمین سلواہ اور شینہ درہ میں تھی (شینہ درہ نام شیروں کے مسکن کی وجہ سے مشہور ہوا۔شینہ شیر کو کہتے -